منگل, جنوری 27, 2026
الرئيسيةکیا ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا محرک معدنیات اور تیل ہیں؟

کیا ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا محرک معدنیات اور تیل ہیں؟

تیل کے شعبے کے ماہر ڈینیل یرگین کا کہنا ہے کہ امریکہ چین پر انحصار کم کرنے اور اپنی سپلائی چین کو آزاد بنانے کے لیے بے چین ہے۔ چین معدنیات، خاص طور پر ان تانبے پر غلبہ رکھتا ہے جو برقی گاڑیوں، ڈیٹا سینٹرز، روبوٹس، موبائل فونز اور دفاعی ٹیکنالوجی کے لیے ناگزیر ہے۔

ٹیرف میں اضافے اور سپلائی چین کی تشکیل نو

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے محرکات پر بحث کرتے ہوئے، یرگین نے نشاندہی کی کہ ٹرمپ انتظامیہ نے تقریباً ہر تجارتی شراکت دار پر ٹیرف بڑھانے کے عزم کے ساتھ ساتھ، سال کا بیشتر حصہ مختلف اشیاء پر درآمدی ڈیوٹیوں کو ازسرنو ترتیب دینے میں گزارا۔ اس حکمت عملی کا مقصد چین کے ساتھ تجارتی عدم توازن کو دور کرنا اور امریکی صنعتوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

معدنیات کی اسٹریٹیجک اہمیت

یرگین کے مطابق، چین کی معدنیات، خصوصاً الیکٹریفیکیشن، جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی سازوسامان کے لیے درکار اہم معدنیات پر گرفت، امریکہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ امریکہ اپنی سپلائی چین کو چین سے آزاد کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے لیے اسے ان معدنیات کے متبادل ذرائع تلاش کرنے یا ان کی پیداوار میں خود کفیل ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ صورتحال ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے فیصلوں میں معدنیات اور توانائی کے وسائل کی اسٹریٹیجک اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں