برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے جیفری ایپسٹین کے متاثرین سے جیفری ایپسٹین کے معاملے میں پیٹر مینڈیلسن کی تقرری اور ان کی ‘جھوٹی باتوں’ پر یقین کرنے پر باضابطہ طور پر معذرت طلب کر لی ہے۔ یہ اعتراف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مینڈیلسن کو امریکہ میں سفیر مقرر کیا گیا تھا۔
تقرری کے وقت تعلقات کی گہرائی سے لاعلمی کا دعویٰ
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ جب پیٹر مینڈیلسن کو امریکہ میں سفیر مقرر کیا گیا تھا، تو ان کے اور جیفری ایپسٹین کے درمیان تعلقات کی گہرائی سے لاعلمی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت صورتحال کی مکمل حقیقت سامنے نہیں تھی۔
متاثرین کے لیے اہم قدم
کیئر اسٹارمر کا یہ اقدام جیفری ایپسٹین کے متاثرین کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ متاثرین برسوں سے انصاف اور جوابدہی کا مطالبہ کر رہے ہیں، اور اس طرح کی معذرت کو ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سیاسی تناظر اور اثرات
یہ بیان برطانوی سیاست میں ایک حساس موضوع پر روشنی ڈالتا ہے اور اس سے متعلقہ شخصیات کے کردار پر سوالات اٹھاتا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر حکومت پر دباؤ بڑھا سکتی ہیں اور وزیراعظم کے اس اعتراف کے سیاسی اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔

