سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان زیرِ تعمیر ‘گورڈی ہو انٹرنیشنل برج’ کے افتتاح کو روکنے کی دھمکی دے کر دونوں ممالک کے تجارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ پل ریاست مشی گن کے شہر ڈیٹرائٹ اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے شہر ونڈسر کو ملانے والا ایک عظیم الشان منصوبہ ہے، جو رواں برس مکمل ہو کر باقاعدہ فعال ہونے کے لیے تیار ہے۔
منصوبے کی اہمیت اور ٹرمپ کا موقف
گورڈی ہو انٹرنیشنل برج شمالی امریکہ کے اہم ترین بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں سے ایک ہے، جس پر اربوں ڈالر کی لاگت آئی ہے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں اس منصوبے کے حوالے سے سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے افتتاح کو روکنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کا یہ موقف کینیڈا کے ساتھ سرحدی پالیسیوں اور تجارتی معاہدوں پر دباؤ بڑھانے کی ایک کڑی ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ میں انتخابی گہما گہمی عروج پر ہے۔
تجارتی اثرات اور کینیڈا کا ردعمل
یہ پل دونوں ممالک کے درمیان مال بردار گاڑیوں کی آمد و رفت کو سہل بنانے اور سرحد پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ کینیڈا کی حکومت اور تعمیراتی حکام کا کہنا ہے کہ پل کی تعمیر کا کام آخری مراحل میں ہے اور اسے شیڈول کے مطابق عوام کے لیے کھولا جائے گا۔ ماہرینِ معیشت کے مطابق، اگر اس منصوبے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ڈالی گئی تو اس سے نہ صرف سپلائی چین متاثر ہوگی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کی سالانہ تجارت کو بھی شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔
مستقبل کی صورتحال
واضح رہے کہ اس پل کا نام کینیڈا کے مشہور ہاکی کھلاڑی ‘گورڈی ہو’ کے نام پر رکھا گیا ہے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور اقتصادی تعاون کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی اس دھمکی نے جہاں سفارتی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے، وہی مشی گن اور اونٹاریو کی مقامی انتظامیہ اس منصوبے کو ہر صورت مکمل کرنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ معاملہ امریکی سیاست اور پاک کینیڈا تعلقات میں ایک اہم رخ اختیار کر سکتا ہے۔

