لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے متعدد رپورٹس کی جانچ شروع کر دی ہے جن میں سابق بزنس سیکرٹری لارڈ پیٹر مینڈلسن پر سرکاری معلومات کو مجرم جفری ایپسٹین کے ساتھ شیئر کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق، مینڈلسن نے اپنی سرکاری حیثیت کے دوران حساس معلومات ایپسٹین کو فراہم کیں، جس سے عوامی عہدے پر بدعنوانی کے الزامات اٹھائے گئے ہیں۔
تحقیقات کی شروعات
پولیس کے بیان کے مطابق، وہ "مسلۂ بدعنوانی کے ممکنہ واقعات” کی متعدد شکایات کا جائزہ لے رہی ہے۔ یہ شکایات مختلف ذرائع سے موصول ہوئی ہیں اور ان میں سرکاری دستاویزات کی غیر قانونی منتقلی کے ساتھ ساتھ ذاتی مفادات کے حصول کے شبہات شامل ہیں۔
الزام کی نوعیت
دستاویزات میں واضح کیا گیا ہے کہ مینڈلسن نے ایپسٹین کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کیں اور اس کے ذریعے حکومتی پالیسیوں، مالیاتی معلومات اور بین الاقوامی تجارتی مذاکرات کے بارے میں حساس ڈیٹا فراہم کیا۔ ایپسٹین، جو پہلے ہی جنسی جرائم کے الزام میں سزا یافتہ ہے، اس معلومات کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے کا شبہ ہے۔
سرکاری ردعمل
برطانیہ کی حکومت نے اس معاملے پر "سخت نگرانی” کا وعدہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر الزامات ثابت ہو گئے تو مناسب قانونی کارروائی کی جائے گی۔ وزارت برائے داخلہ نے بھی اس بات پر زور دیا کہ سرکاری عہدے داروں کی شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانا ملکی مفاد میں ہے۔
ممکنہ نتائج
اگر تحقیقات کے دوران یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ مینڈلسن نے واقعی سرکاری معلومات کو غیر قانونی طور پر منتقل کیا تو اس کے خلاف عوامی عہدے پر بدعنوانی کے تحت قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، اس کیس کے نتیجے میں سرکاری معلومات کی حفاظت کے لیے نئے ضوابط اور سخت نگرانی کے نظام متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔

