انگلینڈ اور ویلز میں گھریلو صارفین کے لیے پانی کے بلوں میں ایک بار پھر اضافہ ہونے والا ہے۔ یکم اپریل سے اوسطاً سالانہ گھریلو بل میں 33 پاؤنڈ کا اضافہ کیا جائے گا۔ یہ اضافہ ماہانہ بنیادوں پر 2.70 پاؤنڈ بنتا ہے، جس سے لاکھوں گھرانوں پر مالی بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔
تفصیلات اور صارفین پر اثرات
یہ بڑھوتری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کے کئی حصوں میں صارفین کو گزشتہ سال بھی پانی کے بلوں میں بھاری اضافے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اوسطاً ماہانہ 2.70 پاؤنڈ کا یہ اضافہ صارفین کے بجٹ پر مزید دباؤ ڈالے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی کی شرح پہلے ہی بلند ہے۔ یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب گھریلو آبی محصولات میں نمایاں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
اپنے بل کا حساب کیسے لگائیں؟
چونکہ یہ اعداد و شمار اوسط پر مبنی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ صارفین اپنے مخصوص بلوں میں ہونے والے اضافے کو جانیں۔ پانی کی فراہمی کے مختلف علاقوں اور کمپنیوں کے نرخ مختلف ہوتے ہیں، لہٰذا تمام صارفین پر یکساں اثر نہیں پڑے گا۔
صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ متعلقہ آبی فراہم کنندگان (Water Providers) کے آن لائن ٹولز یا کیلکولیٹرز کا استعمال کریں تاکہ وہ درست طور پر معلوم کر سکیں کہ ان کے سالانہ اخراجات میں کتنا فرق آئے گا۔ یہ ٹولز صارفین کو ان کی کھپت اور علاقے کے لحاظ سے بل میں ہونے والے حقیقی اضافے کا اندازہ لگانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

