جمعرات, مارچ 5, 2026
الرئيسيةٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: سپر ایٹ مرحلے کی دوڑ تیز، پاکستان کی...

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: سپر ایٹ مرحلے کی دوڑ تیز، پاکستان کی رسائی اور آسٹریلیا کا مستقبل کیا ہوگا؟

آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2024ء اپنے سنسنی خیز اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں سپر ایٹ مرحلے تک رسائی کے لیے عالمی ٹیموں کے درمیان اعصاب شکن مقابلہ جاری ہے۔ شائقینِ کرکٹ کی نظریں اس وقت پوائنٹس ٹیبل کی پیچیدہ صورتحال پر جمی ہوئی ہیں، جہاں چند بڑی ٹیموں کا مستقبل خطرے میں دکھائی دے رہا ہے۔

پاکستان کے لیے ‘اگر مگر’ کی صورتحال

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے سپر ایٹ مرحلے تک رسائی اب محض اپنی کارکردگی تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا انحصار دیگر ٹیموں کے نتائج پر بھی ہے۔ امریکہ اور بھارت کے خلاف ابتدائی میچوں میں شکست کے بعد قومی ٹیم اب ‘اگر مگر’ کی مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ پاکستان کو اگلے مرحلے میں جانے کے لیے نہ صرف آئرلینڈ کے خلاف اپنا آخری میچ بڑے مارجن سے جیتنا ضروری ہے، بلکہ اسے یہ دعا بھی کرنی ہوگی کہ امریکہ اپنے بقیہ میچز میں شکست کھا جائے۔ اگر امریکہ ایک بھی میچ جیت جاتا ہے یا بارش کی وجہ سے پوائنٹس تقسیم ہو جاتے ہیں، تو پاکستان ٹورنامنٹ سے باہر ہو جائے گا۔

کیا آسٹریلیا ٹورنامنٹ سے باہر ہو سکتا ہے؟

اگرچہ آسٹریلیا نے ٹورنامنٹ میں اب تک شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم ریاضیاتی طور پر گروپ بی میں اب بھی حیران کن نتائج کی گنجائش موجود ہے۔ اسکاٹ لینڈ کی فتوحات اور انگلینڈ کے خلاف ان کے بہتر رن ریٹ نے گروپ کی صورتحال کو دلچسپ بنا دیا ہے۔ اگر انگلینڈ اپنے بقیہ میچز بڑے مارجن سے جیت لیتا ہے اور آسٹریلیا کو اپنے آخری گروپ میچ میں غیر متوقع شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر آسٹریلیا کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بج سکتی ہے، حالانکہ اس کا امکان انتہائی کم دکھائی دیتا ہے۔

سپر ایٹ کوالیفیکیشن کا طریقہ کار

ورلڈ کپ کے قوانین کے مطابق، چاروں گروپس میں شامل پانچ پانچ ٹیموں میں سے صرف ٹاپ دو ٹیمیں ہی سپر ایٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کریں گی۔ پوائنٹس برابر ہونے کی صورت میں سب سے پہلے نیٹ رن ریٹ کو دیکھا جائے گا۔ اگر رن ریٹ بھی برابر رہا تو پھر ہیڈ ٹو ہیڈ مقابلے (آپس کے میچ کی جیت) کو ترجیح دی جائے گی۔ موجودہ صورتحال میں بھارت، جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا جیسی ٹیمیں مضبوط پوزیشن میں ہیں، جبکہ دفاعی چیمپئن انگلینڈ اور پاکستان جیسی بڑی ٹیموں کے لیے بقا کی جنگ جاری ہے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں