خود مختار گاڑیوں کی دنیا میں دو بڑی خبریں سامنے آئی ہیں جو اس شعبے کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ ایک جانب، معروف الیکٹرک گاڑی ساز کمپنی ٹیسلا نے اپنے ‘آٹو پائلٹ’ فیچر کا نام تبدیل کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب، خود مختار ٹیکسی سروس ویموو (Waymo) امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (NTSB) کی تحقیقات کی زد میں آ گئی ہے۔
ٹیسلا کا ‘آٹو پائلٹ’ نام کا خاتمہ
ٹیسلا نے اپنے ‘آٹو پائلٹ’ نام کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ ایک حیران کن اقدام ہے۔ کمپنی اب بھی ‘فل سیلف ڈرائیونگ’ (FSD) نامی فیچر کے ذریعے صارفین سے بھاری رقوم وصول کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ نام کی تبدیلی شاید کیلیفورنیا کے موٹر وہیکل ڈیپارٹمنٹ (DMV) کو مطمئن کرنے کی ایک کوشش ہے، جس نے حال ہی میں ٹیسلا کے FSD سسٹم کے دعووں پر سوالات اٹھائے تھے۔ یہ اقدام خود مختار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی کے بارے میں حکومتی اداروں اور صارفین کے بڑھتے ہوئے خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔
ویموو کی تحقیقات کا آغاز
اس دوران، نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (NTSB) نے ویموو کی خود مختار ٹیکسیوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ویموو کی خود مختار گاڑیاں مبینہ طور پر سڑک پر رکی ہوئی گاڑیوں کو غیر قانونی طور پر اوور ٹیک کر رہی تھیں۔ یہ تحقیقات ویموو کے آپریشنل سیفٹی اور اس کی ٹیکنالوجی کی قابل اعتمادیت پر سوالات اٹھاتی ہیں۔ خود مختار گاڑیوں کی حفاظت اور ان کے قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانا اس شعبے کی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔
دیگر اہم خبریں
اس کے علاوہ، ڈرون ڈیلیوری سروسز فراہم کرنے والی کمپنی زپ لائن (Zipline) نے 600 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے تاکہ وہ اپنے آپریشنز کو مزید وسیع کر سکے۔ دوسری جانب، ‘فزیکل اے آئی’ (Physical AI) کا تصور بھی خبروں کی زینت بن رہا ہے، جو مصنوعی ذہانت کو جسمانی دنیا میں لاگو کرنے کے امکانات کو اجاگر کرتا ہے۔

