امریکی الیکٹرک گاڑی ساز ٹیسلا نے اپنی تازہ ترین مالی رپورٹ میں سہ ماہی آمدنی کے تخمینات سے بہتر کارکردگی دکھائی، لیکن مجموعی طور پر اس نے اپنی پہلی سالانہ آمدنی میں ریکارڈ کمی ریکارڈ کی۔ کمپنی نے ایڈجسٹڈ فی شیئر کمائی 50 سینٹ درج کی، جبکہ تجزیہ کاروں کی توقع 45 سینٹ تھی۔
مالی کارکردگی کا خلاصہ
ٹیسلا کی چوتھی سہ ماہی کی آمدنی پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 3 فیصد کم ہو کر 25.7 بلین ڈالر رہی۔ اس کمی کا بڑا حصہ آٹوموٹیو سیکٹر کی آمدنی میں 11 فیصد کمی سے ہوا، جو اس عرصے میں 17.7 بلین ڈالر تک گھٹ گئی۔ دوسری جانب، توانائی ذخیرہ اور سروسز کے شعبوں نے بالترتیب 3.8 بلین اور 3.4 بلین ڈالر کی آمدنی کے ساتھ مثبت رفتار دکھائی۔
سیگمنٹ کی تفصیل
آٹوموٹیو سیکٹر کی آمدنی میں کمی کا بنیادی سبب گاڑیوں کی ڈلیوری میں مسلسل کمی ہے، جس کی رپورٹ چند ہفتے قبل ہی جاری ہوئی تھی۔ اس کے برعکس، توانائی ذخیرہ (Energy Storage) اور سروسز (Services) کے شعبوں نے بڑھتی ہوئی طلب اور نئی معاہدوں کی بدولت اپنی آمدنی میں اضافہ کیا۔ توانائی ذخیرہ کی آمدنی میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹیسلا کی بیٹری سٹوریج سولیوشنز عالمی مارکیٹ میں مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔
آئندہ کے لیے توقعات
تحلیل کاروں کا خیال ہے کہ اگر ٹیسلا اپنی گاڑیوں کی ڈلیوری کو مستحکم کر سکے اور توانائی کے شعبے کی توسیع جاری رکھے تو آئندہ مالی سال میں آمدنی کی کمی کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، موجودہ مارکیٹ کے چیلنجز اور مسابقتی دباؤ کمپنی کے لیے اہم خطرات بنے ہوئے ہیں۔

