مشہور شارٹ ویڈیو ایپ ٹِک ٹاک نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایک ایسے معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے جس کے تحت یہ مقبول ایپ امریکہ میں کام جاری رکھ سکے گی۔ یہ پیش رفت ایک سال قبل اس خدشے کے بعد سامنے آئی ہے کہ اگر اس کی چینی مالک کمپنی نے امریکہ میں اپنا کاروبار فروخت نہ کیا تو اسے پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
نیا امریکی ادارہ قائم، بورڈ میں ٹک ٹاک کے سی ای او شامل
ٹِک ٹاک نے تصدیق کی ہے کہ امریکی قوانین کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے ایپ چلانے کے لیے ایک نیا امریکی ادارہ قانونی طور پر قائم کر دیا گیا ہے۔ یہ نیا ادارہ، جس کا نام ‘ٹِک ٹاک یو ایس ڈی ایس جوائنٹ وینچر ایل ایل سی’ (TikTok USDS Joint Venture LLC) ہے، ایک آزاد حیثیت سے کام کرے گا۔ اس کے سات رکنی بورڈ میں ٹِک ٹاک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) شو چیؤ (Shou Chew) بھی شامل ہوں گے۔
یہ معاہدہ اس طویل عرصے سے جاری تنازعے کا خاتمہ کرتا ہے جس میں امریکی حکومت کی جانب سے قومی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر ٹِک ٹاک کو فروخت کرنے یا پابندی کا سامنا کرنے کا دباؤ تھا۔

