امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ پر ٹیریف عائد کرنے کے خطرے نے ایشیا‑پیسفک مارکیٹوں کو شدید جھٹکا پہنچایا۔ وال سٹریٹ کی رات بھر کی گراوٹ کے بعد اس خطے کی اسٹاک مارکیٹیں وسیع پیمانے پر نیچے گئیں۔
مارکیٹ کی مجموعی صورتحال
آسیا‑پیسفک کے بڑے انڈیکس، جن میں جاپان کے نِکی ۲۲۵ اور ہانگ کانگ کے ہینجنگ کی ۲۸۰ شامل ہیں، تقریباً ۱.۲٪ سے ۲.۳٪ تک کمی کے ساتھ بند ہوئے۔ سرمایہ کاروں نے امریکی تجارتی کشیدگی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر خطرے سے بچاؤ کے لیے اپنے سرمائے کو محفوظ اثاثوں کی طرف منتقل کیا۔
سونا اور چاندی کی بے مثال چھلانگ
سونے کی قیمتیں پہلی بار ۴۸۰۰ امریکی ڈالر کی سطح عبور کر گئیں اور ۱٫۷٪ اضافہ کے ساتھ ریکارڈ درجے پر پہنچ گئیں۔ اس کے ساتھ ہی چاندی کی قیمت بھی تاریخی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی۔ سرمایہ کاروں نے غیر یقینی عالمی ماحول میں سونے اور چاندی کو محفوظ پناہ گاہ سمجھتے ہوئے بڑے پیمانے پر خریداری کی۔
ٹریمپ کی تجارتی پالیسی کے اثرات
صدر ٹرمپ کی جانب سے یورپی یونین کے ممالک پر ٹیریف لگانے کے اشارے نے عالمی تجارتی نظام پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس بیان نے نہ صرف امریکی اسٹاک مارکیٹ کو متاثر کیا بلکہ ایشیا کی معیشتوں کے لیے بھی خطرے کا پیش خیمہ بن گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ٹیریف کا اطلاق ہوا تو عالمی تجارتی دھارے میں نمایاں رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
سرمایہ کاروں کے لیے رہنمائی
ماہرین نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ اس غیر مستحکم دور میں محفوظ اثاثوں جیسے سونا، چاندی اور حکومتی بانڈز پر توجہ مرکوز کریں۔ ساتھ ہی، تجارتی کشیدگی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کی رفتار میں اچانک تبدیلیاں متوقع ہیں، اس لیے محتاط رہنا ضروری ہے۔

