امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے براہِ راست درخواست کی کہ وہ یوکرین کے دارالحکومت کیف اور دیگر شہروں پر ایک ہفتے کے لیے حملہ نہ کریں۔ ٹرمپ کے مطابق پوتن نے اس درخواست کو قبول کر لیا ہے۔
پوشیدہ مذاکرات اور ردعمل
روس کی جانب سے اس دعویٰ کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی، جبکہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ پوتن کے اس وعدے کی پابندی کی توقع رکھتے ہیں۔ زیلنسکی نے کہا کہ اگر پوتن اس وعدے پر عمل بھی کرتے ہیں تو یہ یوکرین کی عوام کے لیے ایک نیا امید کا پیغام ہوگا۔
پچھلا پس منظر
یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کے دوران کئی بار شہری علاقوں پر حملے ہوئے ہیں، جس سے بڑی تعداد میں شہری ہلاکتیں اور تباہیاں ہوئیں۔ اس تناظر میں ٹرمپ کی اس بیان نے بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کی ہے، جہاں کئی ممالک نے اس کی سچائی اور اثرات پر سوال اٹھائے ہیں۔
امریکی اور عالمی ردعمل
امریکہ کی خارجہ پالیسی کے ماہرین نے اس بیان کو محتاط انداز میں دیکھتے ہوئے کہا کہ اگرچہ امریکی صدر کی ذاتی درخواست کا اثر محدود ہو سکتا ہے، لیکن اس سے سفارتی چینلز کے ذریعے دباؤ بڑھانے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، نیٹو اور یورپی یونین کے عہدیداروں نے اس طرح کے غیر رسمی وعدوں کی تصدیق کے بغیر کسی بھی فوجی کارروائی کی پیش گوئی سے گریز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
آئندہ امکانات
اگر پوتن واقعی اس ہفتے کے لیے حملے سے باز رہتے ہیں تو یہ یوکرین کی حکمت عملی اور بین الاقوامی حمایت کے لیے ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا سکتی ہے۔ تاہم، اس کے برعکس اگر اس وعدے کی خلاف ورزی ہو جاتی ہے تو اس سے امریکی اور روسی تعلقات کے ساتھ ساتھ عالمی امن پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

