ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یورپی ممالک پر مزید ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹنے کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس غیر متوقع پسپائی نے عالمی منڈیوں کو تقویت دی ہے اور سرمایہ کاروں کے خدشات کو کم کیا ہے۔
جمعرات کو ایک سرمایہ کار نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "ڈونلڈ ٹرمپ کی ‘ٹیکو بیل’ ایک بار پھر بجی ہے، جو مالیاتی منڈیوں کے لیے خوشی کا باعث بنی ہے۔” ٹرمپ کے اس فیصلے نے ان خدشات کو عارضی طور پر ختم کر دیا ہے جو نئے محصولات کی وجہ سے عالمی تجارت میں مستقل ہلچل پیدا ہونے کے بارے میں تھے۔
جیو پولیٹیکل خطرات میں کمی
گزشتہ کئی ہفتوں سے مارکیٹیں محصولات کے نئے خطرات اور جیو پولیٹیکل غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے شدید اتار چڑھاؤ کا شکار تھیں۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ تھا کہ ٹرمپ کی جانب سے یورپ پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ (Volatility) میں اضافہ ہوگا۔
تاہم، ٹرمپ کے اس تازہ یو ٹرن نے خطرے کے احساس کو کم کیا ہے اور ایک بار پھر ‘ٹیکو ٹریڈ’ (TACO Trade) کی حکمت عملی کو زندہ کر دیا ہے۔ یہ حکمت عملی بنیادی طور پر ٹرمپ کی پالیسیوں کے غیر متوقع موڑ اور ان کے اچانک فیصلوں پر مبنی ہوتی ہے، جس میں سرمایہ کار ان کی دھمکیوں کے بعد ہونے والی پسپائی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
سرمایہ کاروں کا محتاط رویہ
اس صورتحال کے تناظر میں، مارکیٹ کے مبصرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اب بھی ٹرمپ کی دھمکیوں کو حتمی نہیں سمجھتے۔ پولیمارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، صرف 17 فیصد شرط لگانے والوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے یورپ کے خلاف دھمکی دیے گئے تمام ٹیرف درحقیقت نافذ کیے جائیں گے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی منڈیوں میں اب بھی اس بات پر شک موجود ہے کہ ٹرمپ اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنائیں گے، جس کی وجہ سے ہر یو ٹرن پر مارکیٹ میں تیزی کا رجحان دیکھنے میں آتا ہے۔

