امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گِلائفوسیٹ کی پیداوار میں اضافے کے حکم نے صحت کے شعبے میں سرگرم تنظیموں، خاص طور پر ‘میک امریکہ ہیلدی اگین’ (MAHA) تحریک کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس تحریک کے بانی، سیکرٹری آف ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر، گِلائفوسیٹ کو صحت کے لیے انتہائی مضر قرار دیتے ہوئے اس کے استعمال کے خلاف سرگرم رہے ہیں۔
گِلائفوسیٹ اور ‘راؤنڈ اپ’ پر تحفظات
گِلائفوسیٹ، جو کہ ‘راؤنڈ اپ’ نامی مقبول جڑی بوٹی مار دوا کا بنیادی جزو ہے، کو طویل عرصے سے مختلف اقسام کے کینسر سمیت دیگر سنگین بیماریوں سے جوڑا جا رہا ہے۔ MAHA تحریک کا مؤقف ہے کہ اس کیمیکل کے وسیع پیمانے پر استعمال سے نہ صرف انسانی صحت بلکہ ماحولیات پر بھی تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ تنظیم نے اس کیمیکل کو "نفرت انگیز” قرار دیتے ہوئے اس کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔
انتظامیہ کا حکم اور اس کے مضمرات
صدر ٹرمپ کی جانب سے گِلائفوسیٹ کی پیداوار بڑھانے کا حکم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ دنیا بھر میں اس کیمیکل کے محفوظ متبادل تلاش کرنے اور اس کے استعمال کو محدود کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ماہرین صحت اور ماحولیات کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ حکم عوام کی صحت کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے اور اس کے دور رس منفی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
MAHA تحریک کا ردعمل اور آئندہ لائحہ عمل
رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کی قیادت میں MAHA تحریک نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس حکم کے خلاف قانونی اور عوامی سطح پر ہر ممکن اقدام اٹھائے گی تاکہ گِلائفوسیٹ کے استعمال کو روکا جا سکے اور عوام کی صحت کو محفوظ بنایا جا سکے۔ تحریک نے دیگر صحت تنظیموں اور عام شہریوں سے بھی اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے۔

