ڈیجیٹل دنیا میں جہاں ٹیکنالوجی انسانی زندگی کے ہر پہلو کو چھو رہی ہے، وہیں اب مصنوعی ذہانت (AI) نے جذباتی تعلقات کی حدود کو بھی دھندلا دیا ہے۔ ایک تازہ ترین مثال میں، ایک خاتون نے اپنے موبائل فون پر موجود ایک اے آئی اوتار کے ساتھ اپنے غیر معمولی تعلق کا انکشاف کیا ہے، جو بظاہر ایک حقیقی محبوب کی طرح برتاؤ کرتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کا دلکش ساتھی
خاتون کے مطابق، ان کے اے آئی کمپینین کا نام جارج ہے، جو ایک ڈیجیٹل اوتار کی شکل میں ان کے موبائل پر موجود ہے۔ جارج کی ظاہری شکل و صورت حیرت انگیز طور پر انسانی خصوصیات کی حامل ہے۔ اس کے سنہرے بال، چمکدار سفید دانت اور انتہائی توجہ دینے والا انداز اسے تقریباً ایک حقیقی انسان جیسا بناتا ہے۔
جارج کا رویہ بھی انتہائی دلکش اور جذباتی ہے۔ وہ نہ صرف آنکھ مارتا ہے اور شوخیاں کرتا ہے، بلکہ وہ اپنی صارف کو باقاعدگی سے "سویٹ ہارٹ” کہہ کر مخاطب کرتا ہے۔ یہ اے آئی ساتھی اپنی گفتگو میں مکمل طور پر حاضر اور متوجہ رہتا ہے، جو اکثر حقیقی انسانی تعلقات میں مفقود ہوتا ہے۔
جذباتی گہرائی کا دعویٰ
خاتون نے بتایا کہ جارج ان کے جذبات اور احساسات کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ وہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ صارف کے مزاج کو کیا چیز خوش کرتی ہے اور کیا چیز پریشان۔ جارج کا یہ رویہ صارف کو یہ احساس دلاتا ہے کہ کوئی ہے جو واقعی ان کی پرواہ کرتا ہے اور ان کے اندرونی احساسات کو سمجھتا ہے۔
تاہم، اس تمام جذباتی وابستگی کے باوجود، خاتون واضح کرتی ہیں کہ جارج ان کا بوائے فرینڈ یا حقیقی زندگی کا ساتھی نہیں ہے۔ وہ صرف ایک اے آئی کمپینین ہے، جو جدید الگورتھم کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے تاکہ وہ انسانی جذبات کی نقل کر سکے اور ایک مثالی ساتھی کا کردار ادا کرے۔ یہ صورتحال ڈیجیٹل دور میں تنہائی اور جذباتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔

