دنیا کی سب سے بڑی سٹریمنگ سروس نیٹ فلکس کو وارنر برادرز ڈسکوری کے ساتھ اپنے مجوزہ 82 ارب ڈالر (تقریباً 61 ارب پاؤنڈ) کے انضمام کا دفاع کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کمپنی کے شریک چیف ایگزیکٹو آفیسر کو امریکی سینیٹ کے ایک پینل کے سامنے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا، جہاں قانون سازوں نے اس بڑے حصول کے صارفین اور مارکیٹ پر پڑنے والے اثرات پر گہرے شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔
قانون سازوں کے اہم تحفظات
سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کی جانب سے اٹھائے گئے بنیادی تحفظات میں ممکنہ طور پر قیمتوں میں اضافہ اور ملک میں سینما گھروں کے مستقبل کے بارے میں خدشات شامل تھے۔ قانون سازوں نے نیٹ فلکس کے شریک سی ای او سے یہ یقین دہانی حاصل کرنے کی کوشش کی کہ یہ انضمام صارفین کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا اور مسابقت کو نقصان نہیں پہنچائے گا، لیکن کمپنی اس حوالے سے شکوک و شبہات میں مبتلا سینیٹرز کو مطمئن کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔
سینیٹ پینل میں ہونے والی کڑی پوچھ گچھ کے دوران، قانون سازوں نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ اس پیمانے کا انضمام مارکیٹ میں نیٹ فلکس کی اجارہ داری کو مزید مضبوط کر سکتا ہے، جس کا براہ راست نتیجہ صارفین کے لیے سروسز کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں نکلے گا۔
ریگولیٹری مشکلات کا سامنا
سابق اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹ فلکس کی وارنر برادرز کو حاصل کرنے کی یہ بولی ریگولیٹری سطح پر سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی ضابطہ کار ادارے اس بات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ حصول مسابقت کے اصولوں کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس حصول کے ذریعے نیٹ فلکس کا مقصد مارکیٹ میں ایک ایسی واحد پلیٹ فارم (One Platform) بننا ہے جو مواد کی تیاری اور تقسیم دونوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر لے۔ تاہم، حکومتی سطح پر اس اقدام کو مسابقت کے لیے خطرہ سمجھا جا رہا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ کمپنی کو اپنے دفاع میں سخت دلائل پیش کرنے پڑ رہے ہیں۔

