جمعرات, مارچ 12, 2026
الرئيسيةUncategorizedنئے قانون کا مسودہ: ٹیک کمپنیوں کو نازیبا تصاویر 48 گھنٹوں میں...

نئے قانون کا مسودہ: ٹیک کمپنیوں کو نازیبا تصاویر 48 گھنٹوں میں ہٹانے کا حکم

حکومت نے انٹرنیٹ پر نازیبا اور غیر اخلاقی تصاویر کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت سوشل میڈیا اور دیگر ٹیک کمپنیوں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ کسی بھی نازیبا یا غیر قانونی مواد کی اطلاع ملنے کے 48 گھنٹوں کے اندر اسے اپنے پلیٹ فارم سے ہٹانے کو یقینی بنائیں۔

سخت قانونی کارروائی اور جرمانے

نئے ضوابط کے مطابق، کسی کی اجازت کے بغیر اس کی نجی یا نازیبا تصاویر شیئر کرنے کو اب ایک سنگین جرم تصور کیا جائے گا۔ اگر کوئی کمپنی مقررہ وقت کے اندر ایسا مواد ہٹانے میں ناکام رہتی ہے، تو اسے نہ صرف بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ اس کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی بھی کی جائے گی۔ حکومت کا موقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو مزید ذمہ دار بنانا ہے۔

صارفین کا تحفظ اور حکومتی ترجیحات

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس قانون سازی کا بنیادی مقصد انٹرنیٹ صارفین، بالخصوص خواتین اور بچوں کو ڈیجیٹل ہراسانی اور بلیک میلنگ سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ حکام کے مطابق، نجی معلومات اور تصاویر کا غلط استعمال ایک سنگین معاشرتی مسئلہ بن چکا ہے، جس کے سدباب کے لیے فوری اور موثر کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

متاثرین کے لیے فوری انصاف کی فراہمی

اس نئے قانون کے ذریعے متاثرین کو یہ سہولت میسر ہوگی کہ وہ اپنی شکایت درج کرواتے ہی فوری ریلیف حاصل کر سکیں گے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن سے نازیبا مواد کو وائرل ہونے سے روکنے میں مدد ملے گی، جس سے متاثرہ شخص کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے گا۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں