میکسیکو کے صدر اینڈریس مانویل لوپیز اوبرادور نے کیوبا کو تیل کی فراہمی کے حوالے سے جاری رپورٹس پر واضح موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ میکسیکو کا “انسانی ہمدردی کے پیش نظر کیوبا کو تیل بیچنے یا عطیہ کرنے” کا فیصلہ مکمل طور پر خودمختار ہے اور اس میں کسی بیرونی دباؤ کا کوئی عنصر شامل نہیں۔
صدر کا بیان
صدر اوبرادور نے میڈیا کانفرنس میں کہا: “میکسیکو نے ہمیشہ کیوبا کے ساتھ یکجہتی دکھائی ہے اور مستقبل میں بھی اس یکجہتی کو برقرار رکھے گا۔ ہماری پالیسی انسانی ضرورتوں کے پیش نظر کیوبا کو توانائی کی فراہمی تک محدود ہے اور یہ فیصلہ میکسیکو کی خودمختار حکمت عملی کا حصہ ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی قسم کی رپورٹ جس میں میکسیکو کی تیل کی ترسیل کے منسوخ ہونے کا ذکر ہو، وہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔
پیش منظر
گزشتہ ہفتے کیوبا کی حکومت نے میکسیکو سے آئندہ تیل کی ترسیل کے منسوخ ہونے کی خبریں شائع کیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے تعلقات پر سوالات اٹھے۔ میکسیکو نے اس وقت تک کوئی سرکاری نوٹس جاری نہیں کیا تھا، لیکن میڈیا میں اس بارے میں مختلف اندازے لگائے جا رہے تھے۔ اس تناظر میں صدر اوبرادور کے بیانات نے واضح کر دیا کہ میکسیکو کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور تیل کی فراہمی کے سلسلے میں تمام فیصلے میکسیکن خودمختاری کے تحت کیے جائیں گے۔
یکجہتی کی تاریخی پس منظر
میکسیکو اور کیوبا کے درمیان اقتصادی و سیاسی تعلقات تاریخی طور پر مضبوط رہے ہیں۔ میکسیکو نے پہلے بھی کیوبا کو انسانی ہمدردی کے تحت توانائی اور خوراک کی امداد فراہم کی ہے۔ اس بار بھی صدر اوبرادور نے اس روایت کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ “کیوبا کے ساتھ ہماری یکجہتی صرف الفاظ تک محدود نہیں، بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے بھی ثابت ہوتی ہے۔”
عالمی ردعمل
عالمی سطح پر اس بیان کو میکسیکو کی خودمختاری اور کیوبا کے ساتھ اس کی مستقل حمایت کے طور پر سراہا گیا۔ کئی بین الاقوامی تجزیہ کاروں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ میکسیکو کی اس پالیسی سے اس کے علاقائی اثر و رسوخ میں اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر لاطینی امریکہ کے ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے پیش نظر۔

