منصوبۂ ٹرمپ کی جانب سے وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو منیسوٹا کے شہر میں بڑھا کر امیگریشن کے سخت اقدامات اور وسیع پیمانے پر بہبود فراڈ کے الزامات کی تحقیقات کے لیے بھیجا گیا تھا۔ اس تناظر میں الیکس پریٹی کے قتل کے بعد، منیسوٹا کی 60 سے زائد بڑی کمپنیوں کے سی ای اوز نے ایک مشترکہ خط کے ذریعے فوری کشیدگی کم کرنے اور امن کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔
خط کی تفصیلات اور دستخط کنندگان
منیسوٹا کی معروف کمپنیوں جیسے یونائیٹڈ ہیلتھ، ٹارگٹ، بیسٹ بائی، 3M اور کارگل کے سربراہان نے اس خط پر دستخط کیے۔ خط میں واضح طور پر کہا گیا کہ وفاقی ایجنٹوں کی جانب سے منیاپولس میں ہونے والے مہلک گولیاں بازی کے بعد شہر میں بڑھتی ہوئی تشدد کی لہر کو روکنے کے لیے "فوری اور جامع کشیدگی کم کرنے” کے اقدامات ضروری ہیں۔
حکومت کی پالیسی اور اس کے اثرات
ٹرمپ انتظامیہ نے منیسوٹا میں وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی کو بڑھا کر امیگریشن کے خلاف سخت کارروائی اور بہبود فراڈ کے الزامات کی تفتیش کو ترجیح دی ہے۔ تاہم، اس اقدام نے مقامی کمیونٹی اور کاروباری حلقوں میں بے چینی پیدا کی ہے، جس کا واضح اظہار آج کے خط میں ہوا ہے۔
سی ای اوز کا مشترکہ پیغام
خط کے مصنفین نے کہا کہ "قانون کی پاسداری اور عوامی تحفظ کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہے” اور انہوں نے وفاقی حکام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری تشدد سے گریز کریں اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر امن و امان کی بحالی کے لیے کام کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاروباری شعبہ اس بحران کے حل میں معاون ثابت ہونے کے لیے تیار ہے اور اس کے لیے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ تعمیری گفتگو کی ضرورت ہے۔
آئندہ اقدامات کی توقعات
سی ای اوز کی جانب سے اس مشترکہ خط کے بعد، توقع کی جاتی ہے کہ وفاقی حکام اس پر غور کرتے ہوئے منیسوٹا میں جاری تشدد کی لہر کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ اس کے ساتھ ہی مقامی کمیونٹی کے ساتھ رابطے کو مضبوط بناتے ہوئے امن کے ماحول کی بحالی کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جائے گی۔

