منیاپولس کے تاریخی مرکز میں واقع 140 سال پرانی عمارت کے قریب ایک اور مہلک فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں دو افراد کی جان جاں بحق ہو گئی۔ یہ واقعہ اس شہر میں حالیہ ہفتوں میں وفاقی ایجنٹوں کی جانب سے کی گئی دوسری ہلاکت خیز گولیباریاں ہے، جس نے مقامی عوام میں شدید غم و غصہ اور بے یقینی پیدا کر دی ہے۔
واقعے کا پس منظر
گذشتہ ہفتے ہی ایک اور ہنگامی صورتحال میں الیکس پریٹی، جو ایک آئی سی یو نرس تھیں، کو وفاقی امیگریشن ایجنٹوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اسی علاقے میں واقع یہ عمارت، جو شہر کی سب سے پرانی عمارتوں میں سے ایک ہے، اس بار بھی اس کے قریب ہی دو افراد کی جان لے گئی۔ حکام کے مطابق، ایجنٹوں نے مشتبہ افراد پر فائرنگ کی، مگر اس کے بعد اس کارروائی کی قانونی جوازیت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
عوامی ردعمل
مینیاپولس کے رہائشیوں نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ متعدد افراد نے اس واقعے کو "خوفناک” اور "غیر انسانی” قرار دیا اور وفاقی ایجنسیوں سے فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ مقامی کمیونٹی لیڈرز نے بھی احتجاج کا اعلان کیا اور شہریوں کو امن کے ساتھ اپنے اعتراضات پیش کرنے کی ہدایت دی۔
قانونی اور سیاسی ردعمل
قومی اور ریاستی سطح پر اس معاملے پر قانونی اور سیاسی حلقوں کی توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔ کئی قانون سازوں نے وفاقی ایجنٹوں کے اس اقدام پر سوال اٹھاتے ہوئے، اس کی قانونی بنیاد اور انسانی حقوق کے تقاضوں پر روشنی ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، امریکی امیگریشن پالیسی پر بھی دوبارہ غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
آگے کا راستہ
حکام نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا وعدہ کیا ہے اور عوام کو یقین دلایا ہے کہ ذمہ دار افراد کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کی جائے گی۔ تاہم، مینیاپولس کے باشندے اس بات پر نازک نکتۂ نظر رکھتے ہیں کہ آیا یہ تحقیقات شفاف اور غیر جانبدارانہ ہوں گی یا نہیں۔ اس دوران، شہر کی سکیورٹی کے حوالے سے مزید اقدامات اور عوامی تحفظ کے لیے نئی پالیسیوں پر بھی غور جاری ہے۔

