میانمار میں جاری ماہ بھر کے انتخابی عمل کا آخری مرحلہ آج سے شروع ہو کر 60 ٹاؤن شپس میں ووٹرز کے ذریعے مکمل ہوگا۔ اس میں یانگون اور منڈالے جیسے بڑے شہروں کی آبادی بھی شامل ہے، جہاں جاری خانہ جنگی کے باوجود عوامی شرکت کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انتخابی صورتحال
سینکڑوں سالہ جمہوری نظام کے بعد فوجی بغاوت کے بعد اب تک تین راؤنڈز کے انتخابات ہو چکے ہیں۔ فوج کی حمایت یافتہ یونین سولیڈیریٹی اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (USDP) نے پہلے دو راؤنڈز میں زیادہ تر نشستیں حاصل کر لی ہیں، جس سے اس کے جیتنے کے امکانات واضح ہو گئے ہیں۔ باقی سیاسی جماعتیں اور آزاد امیدوار شدید دباؤ اور سکیورٹی خدشات کے باوجود اپنی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی ردعمل
اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اس ماہ طویل عرصے تک جاری رہنے والے انتخابات کو "غیر قانونی” قرار دیا ہے اور اس کی شفافیت پر شدید شک کا اظہار کیا ہے۔ اسی دوران آسیان (ASEAN) کے رکن ممالک نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس انتخابی عمل کی توثیق نہیں کریں گے، کیونکہ اس میں بنیادی انسانی حقوق اور آزاد انتخابات کے معیار کی پاسداری نہیں کی گئی۔
ان بین الاقوامی اداروں کی تنقید کے باوجود، میانمار کی فوجی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ انتخابات کے نتائج کو ملکی آئینی عمل کے تحت منظور کیا جائے گا۔ تاہم، ملک کے اندر جاری مسلح تصادم اور انسانی بحران کے پیش نظر، عالمی برادری کی جانب سے مزید دباؤ اور مداخلت کے امکانات بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔

