منگل, جنوری 27, 2026
الرئيسيةمولی رسل کے والد نے 16 سال سے کم عمر پر سوشل...

مولی رسل کے والد نے 16 سال سے کم عمر پر سوشل میڈیا پابندی کے خلاف کہا

مولی رسل کے والد، ایان رسل نے بی بی سی کے نیوزکاسٹ میں کہا کہ حکومت کو موجودہ قوانین کا نفاذ کرنا چاہیے، نہ کہ سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر پابندی جیسے “سلیج ہامر” کے طریقے اپنانے چاہئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس طرح کی پابندیاں نیک نیتی سے کی جاتی ہیں، لیکن یہ بچوں کی حفاظت اور فلاح و بہبود کے لیے مطلوبہ بہتری نہیں لا سکتیں۔

حکومت کا موقف

برطانیہ کے وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر نے ابھی تک 16 سال سے کم عمر کے بچوں پر سوشل میڈیا پابندی کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ آسٹریلیا نے دسمبر میں اس طرح کی پابندی نافذ کی تھی، جس کے بعد برطانیہ میں بھی اس پر غور جاری ہے۔

ہاؤس آف لارڈز کی رائے

ہاؤس آف لارڈز نے اس معاملے پر مختلف آراء پیش کی ہیں۔ کچھ اراکین کا خیال ہے کہ موجودہ قوانین کی سختی اور نفاذ کو بہتر بنانا زیادہ مؤثر ہوگا، جبکہ دیگر کا ماننا ہے کہ عمر کی حد مقرر کرنا ایک واضح حل ہو سکتا ہے۔

ایان رسل کا پیغام

ایان رسل نے واضح کیا کہ بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ موجودہ قوانین کو مؤثر طریقے سے لاگو کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ “سوشل میڈیا پر مکمل پابندی ایک سلیج ہامر کی طرح ہے؛ یہ مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔” انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ بچوں کی ذہنی صحت اور سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنائے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں