منیاپولس شہر میں وفاقی ایجنٹوں کے ہاتھوں ایلکس جیفری پریٹی کی مہلک فائرنگ نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ فائرنگ حقِ خود دفاع میں کی گئی تھی، تاہم مقتول کے والدین نے ان بیانات کو "گھناؤنے جھوٹ” قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
ایلکس پریٹی، جو پیشے کے لحاظ سے انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں نرس تھے، منیاپولس میں وفاقی افسر کے ہاتھوں اس ماہ کی دوسری ہلاکت ہیں۔ اس واقعے نے شہر میں پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اختیارات پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔
مقتول کی شخصیت اور احتجاج میں شمولیت
ایلکس پریٹی کو ان کے دوستوں اور اہل خانہ نے فطرت سے گہرا لگاؤ رکھنے والے ایک شوقین سیاح کے طور پر بیان کیا ہے جو ماؤنٹین بائیکنگ کے دلدادہ تھے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ 37 سالہ رینی گڈ کی ہلاکت کے بعد ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں بھی شامل ہوئے تھے، جنہیں اسی ماہ وفاقی ایجنٹوں نے گولی مار دی تھی۔ پریٹی کی ہلاکت نے احتجاجی تحریک کو ایک نئی شدت دی ہے۔
ویڈیوز کا تجزیہ اور تحقیقات
سی این این نے اس واقعے سے متعلق متعدد ویڈیوز کا تجزیہ کیا ہے جو ان لمحات کی نشاندہی کرتے ہیں جب وفاقی ایجنٹوں نے ایلکس پریٹی کو گولی ماری۔ یہ ویڈیوز واقعے کے حقائق کو سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں اور حکام کے حقِ خود دفاع کے دعوے کی جانچ پڑتال کے لیے اہم ہیں۔ والدین کا اصرار ہے کہ ان کے بیٹے کو بلاجواز قتل کیا گیا ہے اور وفاقی ایجنٹس اصل حقائق چھپا رہے ہیں۔

