اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنے اختیارات کو مزید وسعت دینے کے لیے اہم اقدامات کی منظوری دے دی ہے۔ ان نئے قواعد و ضوابط کا بنیادی مقصد اسرائیلی آباد کاروں کے لیے زمین کی خرید و فروخت کے عمل کو آسان بنانا اور متنازعہ علاقے میں اسرائیلی قوانین کے نفاذ کو مضبوط کرنا ہے۔
نئے قوانین کی تفصیلات
منظور شدہ قوانین کے تحت، اسرائیلی آباد کاروں کو اب مقبوضہ مغربی کنارے میں زمین خریدنے کے لیے درکار قانونی اور انتظامی رکاوٹوں کا کم سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ تبدیلی خاص طور پر ان علاقوں میں اسرائیلی کنٹرول کو مستحکم کرنے میں مدد دے گی جہاں فلسطینی ملکیت کی زمینوں پر اسرائیلی بستیوں کی توسیع جاری ہے۔
ان اقدامات میں اسرائیلی حکام کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے میں اپنے قوانین کو زیادہ مؤثر طریقے سے نافذ کر سکیں۔ اس توسیع کے ذریعے اسرائیل مغربی کنارے کے بڑے حصوں پر اپنے قانونی دائرہ کار کو عملی طور پر بڑھا رہا ہے، جسے ناقدین مغربی کنارے کو اسرائیل میں شامل کرنے (Annexation) کی جانب ایک واضح قدم قرار دے رہے ہیں۔
عالمی ردعمل اور فلسطینی موقف
بین الاقوامی برادری کی جانب سے مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دیا جاتا رہا ہے اور اسے امن عمل کے لیے ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے ان یکطرفہ اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا یہ فیصلہ مغربی کنارے پر قبضے کو مزید گہرا کرنے کی ایک کوشش ہے اور یہ دو ریاستی حل کے امکانات کو مکمل طور پر ختم کر دے گا۔ انہوں نے عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ان جارحانہ اقدامات کا فوری نوٹس لیں اور ان پر عمل درآمد کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔

