مصنوعی ذہانت (AI) کی مسابقتی دنیا میں ایک نو آموز اسٹارٹ اپ ‘ریکرسیو انٹیلی جنس’ (Ricursive Intelligence) نے اپنی غیر معمولی اور برق رفتار ترقی سے عالمی مالیاتی اداروں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اس کمپنی نے اپنے قیام کے محض چار ماہ کے قلیل عرصے میں 335 ملین ڈالر کا خطیر سرمایہ اکٹھا کر لیا ہے، جس کے بعد اس اسٹارٹ اپ کی مجموعی مالیت 4 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
سرمایہ کاروں کی غیر معمولی دلچسپی اور بانیان کی شہرت
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس اسٹارٹ اپ کی اس قدر تیزی سے مقبولیت اور سرمایہ کاروں کی جانب سے والہانہ ردعمل کی اصل وجہ اس کے بانیان ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ان بانیان کا نام اور کام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ وہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور تخلیقی صلاحیتوں کی وجہ سے اس قدر شہرت رکھتے ہیں کہ دنیا کی بڑی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں انہیں اپنے ساتھ منسلک کرنے کے لیے ہر وقت کوشاں رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب انہوں نے اپنے نئے منصوبے کا آغاز کیا، تو وینچر کیپیٹلسٹ (VCs) ان کے آئیڈیا پر آنکھیں بند کر کے سرمایہ کاری کرنے کے لیے قطاریں لگائے کھڑے نظر آئے۔
ٹیکنالوجی کی صنعت میں ایک نیا ریکارڈ
کسی بھی اسٹارٹ اپ کے لیے محض 120 دنوں کے اندر 4 ارب ڈالر کی مالیت (Valuation) حاصل کرنا ایک تاریخی سنگ میل تصور کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ‘ریکرسیو انٹیلی جنس’ کی یہ کامیابی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موجودہ دور میں سرمایہ کار صرف آئیڈیاز پر نہیں بلکہ ان کے پیچھے موجود باصلاحیت افراد اور ان کے تجربے پر بھروسہ کر رہے ہیں۔ اس خطیر سرمائے کی بدولت کمپنی اب مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مزید جدید تحقیق اور مصنوعات کی تیاری پر توجہ مرکوز کرے گی، جس سے عالمی سطح پر اے آئی ٹیکنالوجی کے منظر نامے میں بڑی تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی ہے۔

