ہفتہ, مارچ 7, 2026
الرئيسيةUncategorizedمصنوعی ذہانت کے مستقبل پر سیاسی جنگ: اینتھروپک اور حریف گروپ نیویارک...

مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر سیاسی جنگ: اینتھروپک اور حریف گروپ نیویارک کے انتخابی میدان میں آمنے سامنے

نیویارک میں کانگریس کی نشست کے لیے ہونے والے انتخابات میں مصنوعی ذہانت (AI) کے حوالے سے سرگرم دو بڑے سیاسی گروپوں کے درمیان شدید محاذ آرائی شروع ہو گئی ہے۔ اینتھروپک کے مالی تعاون سے چلنے والے ایک گروپ نے اس امیدوار کی حمایت کا اعلان کیا ہے جسے ایک حریف ‘سپر پیک’ (Super PAC) کی جانب سے مسلسل تنقید اور سیاسی حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

الیکس بورس اور ‘ریز ایکٹ’ کا تنازع

اس تمام تر سیاسی کشمکش کا مرکز الیکس بورس ہیں، جو نیویارک سے کانگریس کی نشست کے امیدوار ہیں۔ بورس نے حال ہی میں ‘ریز ایکٹ’ (RAISE Act) نامی قانون متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں جوابدہی اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ اس مجوزہ قانون کے تحت اے آئی ڈویلپرز کے لیے یہ قانونی طور پر لازمی ہوگا کہ وہ اپنے حفاظتی پروٹوکولز کو منظرِ عام پر لائیں اور سسٹم کے کسی بھی ممکنہ یا سنگین غلط استعمال کی رپورٹ متعلقہ حکام کو فراہم کریں۔

دو متضاد نظریات کا ٹکراؤ

تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ مقابلہ محض ایک انتخابی مہم نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کی ریگولیشن کے حوالے سے دو مختلف نظریات کی جنگ بن چکا ہے۔ جہاں ایک طرف حریف سپر پیک الیکس بورس کی پالیسیوں کو ٹیکنالوجی کی صنعت میں مداخلت اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دے کر ان کی مخالفت کر رہا ہے، وہاں اینتھروپک کے حمایت یافتہ گروپ کا موقف ہے کہ بورس کے اقدامات اے آئی کی محفوظ اور ذمہ دارانہ ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

صنعتی اثر و رسوخ اور انتخابی نتائج

یہ پہلا موقع ہے کہ کسی امریکی انتخابی مہم میں مصنوعی ذہانت کی حفاظت اور اس سے وابستہ خطرات کے معاملے پر دو طاقتور سیاسی کمیٹیاں اس طرح براہِ راست آمنے سامنے آئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مہم کے نتائج نہ صرف نیویارک کی سیاست پر اثر انداز ہوں گے بلکہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بننے والی قانون سازی کی سمت کا بھی تعین کریں گے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں