جدید دور میں مصنوعی ذہانت (AI) کی تیزی سے ترقی نے جہاں زندگی کے کئی شعبوں میں انقلاب برپا کیا ہے، وہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس کے منفی اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں۔ جعلی، مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر اور ویڈیوز کی بھرمار نے صارفین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، اور اب اس کے خلاف ردعمل کی لہر اٹھ رہی ہے۔
مصنوعی ذہانت کا ‘کچرا’ اور اس کے اثرات
گزشتہ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر اور ویڈیوز کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے جو حقیقی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تخلیق کی گئی ہیں۔ ان میں اکثر مواد غیر معیاری، گمراہ کن یا حتیٰ کہ فحش نوعیت کا ہوتا ہے، جسے عرف عام میں ‘AI slop’ یا ‘مصنوعی ذہانت کا کچرا’ کہا جا رہا ہے۔ یہ مواد نہ صرف بصری آلودگی کا باعث بن رہا ہے بلکہ غلط معلومات پھیلانے کا ایک بڑا ذریعہ بھی بن چکا ہے۔
کیا صارفین کو پرواہ ہے؟
اگرچہ یہ مواد تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کے منفی اثرات واضح ہیں، تاہم یہ دیکھنا اہم ہے کہ کیا عام صارفین اس معاملے کی سنگینی کو سمجھ رہے ہیں اور اس کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بہت سے صارفین اس قسم کے مواد سے بیزار ہیں، لیکن اکثریت کی خاموشی اس مسئلے کو مزید ہوا دے رہی ہے۔ سوشل میڈیا کمپنیاں بھی اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہیں، لیکن AI کی تیز رفتار ترقی کے باعث ان کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانا ایک مشکل کام ثابت ہو رہا ہے۔
ردعمل اور مستقبل کا لائحہ عمل
اس صورتحال کے پیش نظر، صارفین، ٹیکنالوجی کے ماہرین اور پالیسی سازوں کی جانب سے AI سے تیار کردہ جعلی مواد کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ اس میں مواد کی شناخت کے لیے بہتر ٹولز، سخت مانیٹرنگ کے نظام اور صارفین میں شعور بیداری مہمات شامل ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ ردعمل سوشل میڈیا کے ماحول کو بہتر بنانے میں کتنا مؤثر ثابت ہوتا ہے۔

