مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے قدموں نے اب عالمی مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ سافٹ ویئر کمپنیوں کے بعد اب مالیاتی خدمات فراہم کرنے والے ادارے بھی اس ٹیکنالوجی کے نشانے پر آ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں معروف مالیاتی فرم ‘ایل پی ایل فنانشل’ (LPL Financial) کے حصص کی قیمت میں 8 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ سرمایہ کاروں میں یہ تشویش پیدا ہو گئی ہے کہ مصنوعی ذہانت روایتی مالیاتی مشاورت اور ٹیکس پلاننگ کے شعبوں میں انسانی ضرورت کو کم کر سکتی ہے۔
ٹیکس پلاننگ کے نئے ٹول نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
حالیہ مارکیٹ کریش کی بنیادی وجہ مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک جدید ‘ٹیکس پلاننگ ٹول’ کا اجرا ہے، جو محض چند منٹوں میں وہ تمام پیچیدہ حساب کتاب اور منصوبہ بندی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کے لیے پہلے انسانی ماہرین کو کئی گھنٹے یا دن درکار ہوتے تھے۔ اس ٹیکنالوجی کے متعارف ہونے کے بعد مالیاتی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے، جس کے باعث وال اسٹریٹ پر مالیاتی شعبے کے حصص میں فروخت کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔
سافٹ ویئر کے بعد مالیاتی شعبے کی باری
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا خطرہ اب محض سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ان تمام شعبوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے جہاں ڈیٹا پروسیسنگ اور تجزیاتی کام شامل ہیں۔ ایل پی ایل کے حصص میں 8 فیصد کی گراوٹ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سرمایہ کار اب ان کمپنیوں سے اپنا سرمایہ نکال رہے ہیں جن کے کاروبار کو مصنوعی ذہانت سے براہِ راست خطرہ لاحق ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر روایتی مالیاتی اداروں نے خود کو جدید ٹیکنالوجی کے مطابق نہ ڈھالا تو آنے والے دنوں میں مزید گراوٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

