منگل, جنوری 27, 2026
الرئيسيةUncategorizedمائیکروسافٹ نے بھارت کی کمپنی وراہا سے کاربن ریموول کریڈٹس کی خریداری...

مائیکروسافٹ نے بھارت کی کمپنی وراہا سے کاربن ریموول کریڈٹس کی خریداری کا اعلان کیا

ٹیکنالوجی کے عالمی دیو مائیکروسافٹ نے بھارت کی ماحولیاتی کمپنی وراہا کے ساتھ ایک طویل المدتی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت کمپنی آئندہ تین سالوں میں 100,000 ٹن سے زائد کاربن ڈائی آکسائیڈ ریموول کریڈٹس خریدے گی۔ یہ اقدام مائیکروسافٹ کی کاربن نیوٹرلٹی کے اہداف کو مضبوط کرنے اور عالمی سطح پر کاربن کم کرنے کی حکمت عملی کے حصہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

پانیہ میں 30 سالہ معاہدہ اور 1.5 ملین ٹن کریڈٹس

اس کے ساتھ ہی مائیکروسافٹ نے کلائمیٹ امپیکٹ پارٹنرز (CIP) کے ساتھ 30 سالہ معاہدہ طے کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت کمپنی بھارت کے ریاست مہاراشٹر کے پنا (پنا) علاقے میں 1.5 ملین ٹن تصدیق شدہ کاربن ریموول کریڈٹس حاصل کرے گی۔ یہ کریڈٹس مقامی نایاب درختوں کی شجرکاری کے ذریعے پیدا کیے جائیں گے، جس سے نہ صرف کاربن جذب ہوگا بلکہ مقامی ماحولیاتی نظام کی بحالی میں بھی مدد ملے گی۔

پروگرام کی تفصیلات اور اثرات

وراہا اور CIP کی جانب سے چلائے جانے والے اس منصوبے میں ملینوں مقامی درختوں کی کاشت شامل ہے۔ ہر درخت اپنی زندگی کے دوران تقریباً 20 سے 30 کلوگرام کاربن جذب کرتا ہے، جس سے طویل مدت میں کاربن اخراج میں نمایاں کمی متوقع ہے۔ مائیکروسافٹ کے اس سرمایہ کاری سے نہ صرف کمپنی کے کاربن فٹ پرنٹ میں کمی آئے گی بلکہ بھارت میں ماحولیاتی تحفظ اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

مائیکروسافٹ کی کاربن نیوٹرلٹی کی سمت

مائیکروسافٹ نے پہلے ہی 2020 میں اپنی کاربن نیوٹرلٹی کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد سے وہ عالمی سطح پر کاربن ریموول اور تجدیدی توانائی کے منصوبوں میں سرگرم حصہ لے رہی ہے۔ وراہا اور CIP کے ساتھ یہ نئے معاہدے اس کی طویل المدتی ماحولیاتی حکمت عملی کی تکمیل ہیں، جن کا مقصد 2030 تک کاربن اخراج کو 50 فیصد کم کرنا اور 2050 تک کاربن منفی بننا ہے۔

عالمی ماحولیاتی کمیونٹی کی رائے

ماحولیاتی ماہرین نے اس قدم کی تعریف کی ہے اور اسے کاربن مارکیٹ کی مضبوطی اور ٹیکنالوجی سیکٹر کی ذمہ دارانہ شمولیت کا مثبت مثال قرار دیا ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے منصوبوں کی کامیابی کے لیے شفافیت، مستقل نگرانی اور مقامی کمیونٹیز کی شمولیت لازمی ہے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں