لیبر پارٹی کے اندرونی حلقوں میں شدید بے چینی اور اختلافات سامنے آئے ہیں، جہاں کئی اراکین پارلیمنٹ نے پارٹی کی قیادت پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ بی بی سی نیوز کی معروف صحافی لورا کونسبرگ کی رپورٹ کے مطابق، پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ سر کیر سٹارمر آئندہ عام انتخابات میں پارٹی کی قیادت کرنے کے لیے موزوں ترین شخص نہیں ہو سکتے۔
قیادت پر عدم اعتماد
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ لیبر پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ سابق وزیر پیٹر مینڈلسن کے حالیہ بیانات اور اقدامات پر حیران اور برہم ضرور ہیں، لیکن ان کی شدید ناراضگی کا اصل نشانہ کیر سٹارمر ہیں۔ اراکین کا کہنا ہے کہ مینڈلسن پر ناراضگی اپنی جگہ، مگر اصل مسئلہ کیر سٹارمر کی قیادت کا ہے، جس پر پارٹی کے اندرونی حلقے اعتماد کھو رہے ہیں۔
اندرونی ذرائع کے مطابق، اراکین پارلیمنٹ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سٹارمر کی قیادت میں آئندہ انتخابات جیتنے کے حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ پارٹی کے اندر یہ احساس تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ سٹارمر وہ شخص نہیں ہیں جو پارٹی کو کامیابی کی منزل تک پہنچا سکیں۔ یہ صورتحال لیبر پارٹی کے لیے ایک بڑا بحران کھڑا کر سکتی ہے، خاص طور پر جب ملک عام انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے۔

