لبنان کے دوسرے بڑے شہر طرابلس میں ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت کے اچانک زمین بوس ہونے کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ 8 فروری کو پیش آنے والے اس دلخراش واقعے نے نہ صرف پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے بلکہ شہر میں موجود دیگر خستہ حال عمارتوں میں مقیم ہزاروں شہریوں کی زندگیوں پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
واقعے کی تفصیلات اور امدادی کارروائیاں
مقامی حکام کے مطابق، طرابلس کے گنجان آباد علاقے میں واقع یہ ٹاور اچانک گر گیا، جس کے ملبے تلے درجنوں افراد دب گئے۔ امدادی ٹیموں اور مقامی رضاکاروں نے کئی گھنٹوں کی تگ و دو کے بعد ملبے سے 15 لاشیں نکالیں، جبکہ متعدد زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ عمارت گرنے سے قبل کسی قسم کی وارننگ یا لرزہ محسوس نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے مکینوں کو باہر نکلنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔
شہریوں میں بڑھتا ہوا خوف و ہراس
اس حادثے کے بعد طرابلس کے مکینوں میں شدید بے چینی اور خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں مقیم لوگ اب یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں کہ "کیا اگلی باری ہماری ہے؟” مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ شہر کی اکثریت ایسی عمارتوں میں رہائش پذیر ہے جو دہائیوں پرانی ہیں اور طویل عرصے سے مرمت نہ ہونے کے باعث انتہائی بوسیدہ ہو چکی ہیں۔ شہریوں نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان کی زندگیوں کو درپیش خطرات سے آگاہ ہونے کے باوجود خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
معاشی بحران اور انفراسٹرکچر کی زبوں حالی
ماہرین کا کہنا ہے کہ لبنان کے سنگین معاشی بحران نے جہاں عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے، وہیں انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال کے لیے مختص فنڈز بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ طرابلس، جو پہلے ہی غربت اور بے روزگاری کا شکار ہے، وہاں کی رہائشی عمارتیں اب موت کے جال میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ تعمیراتی ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر فوری طور پر شہر کی تمام پرانی عمارتوں کا سیفٹی آڈٹ نہ کیا گیا اور خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کو خالی نہ کرایا گیا، تو مستقبل میں اس سے بھی بڑے سانحات رونما ہو سکتے ہیں۔

