فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاؤل نے بدھ کے روز سپریم کورٹ میں زبانی دلائل کی سماعت میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔ یہ سماعت اس مقدمے سے متعلق ہے جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فیڈ گورنر لِسا کک کی برطرفی کی کوشش کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔
پاؤل کی عدالت میں شرکت
پاؤل نے کہا کہ وہ اس اہم قانونی معاملے کی مکمل سمجھ بوجھ کے لیے عدالت کی سماعت میں موجود ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فیڈ کی خودمختاری اور اس کے فیصلوں کی شفافیت کو برقرار رکھنا قومی مفاد کا حصہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ لِسا کک کی برطرفی کے قانونی پہلوؤں پر عدالت کے فیصلے سے فیڈ کی کارکردگی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
فیڈ پر جاری تحقیقات
پاؤل کی اس دورے کے ساتھ ہی یہ واضح ہوا کہ فیڈرل ریزرو ایک وفاقی فوجداری تحقیق کا سامنا کر رہا ہے۔ مرکزی بینک کے طویل عرصے سے جاری رہنے والے مہنگے تجدیدی منصوبے کے حوالے سے ایک بڑی جوری نے سبپوینا جاری کیے ہیں۔ اس تحقیق کے تحت پاؤل اور دیگر افسران کے خلاف مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کی جانچ پڑتال جاری ہے۔
قانونی اور مالیاتی اثرات
قضیہ اور جاری تحقیق دونوں ہی فیڈ کی ساکھ اور امریکی مالیاتی نظام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ اگر عدالت ٹرمپ کی درخواست کو مسترد کر دیتی ہے تو لِسا کک کی برطرفی کے خلاف قانونی رستہ واضح ہو جائے گا۔ دوسری طرف، اگر جوری کی تحقیق کے نتائج منفی نکلتے ہیں تو فیڈ کی قیادت اور اس کے آئندہ پالیسی فیصلوں پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔
اس صورتحال کے پیشِ نظر، پاؤل نے کہا کہ وہ تمام قانونی اور تحقیقی مراحل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مکمل تعاون کریں گے اور فیڈ کی خودمختاری کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔

