فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی مالک کمپنی میٹا نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں اپنی سرمایہ کاری میں غیر معمولی اضافے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے کہا ہے کہ وہ اے آئی کی توسیع اور عالمی ڈیٹا سینٹرز کی فنڈنگ کے لیے اپنے کیپٹل اخراجات کو تقریباً دو گنا کر کے 2026 تک 135 ارب ڈالر تک بڑھا دے گی۔
سرمایہ کاری میں غیر معمولی اضافہ
میٹا کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ جارحانہ سرمایہ کاری بنیادی طور پر مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی پر مرکوز ہوگی۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کے ساتھ ایک حالیہ کال کے دوران، کمپنی کے عہدیداروں نے تصدیق کی کہ میٹا آئندہ برسوں میں 135 ارب ڈالر تک خرچ کرے گی، جس کی اکثریت اے آئی کے لیے درکار جدید ترین ہارڈویئر اور کمپیوٹنگ صلاحیتوں پر صرف کی جائے گی۔
یہ اخراجات گزشتہ سال کی سرمایہ کاری کے مقابلے میں تقریباً دو گنا ہیں، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ مارک زکربرگ کی قیادت میں میٹا مصنوعی ذہانت کو اپنے تمام پلیٹ فارمز کے مستقبل کے لیے کلیدی حیثیت دے رہی ہے۔ تاہم، کمپنی پر اس بھاری سرمایہ کاری کے جواز کو ثابت کرنے کے لیے شدید دباؤ ہے، کیونکہ سرمایہ کار اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ یہ اخراجات آمدنی میں کس طرح تبدیل ہوں گے۔
ملازمین اور پلیٹ فارمز پر اثرات
مارک زکربرگ کے ان بڑے اخراجات کے منصوبوں سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ کمپنی کے اندرونی ڈھانچے میں مزید تبدیلیاں اور ممکنہ طور پر ملازمین کی مزید چھانٹیاں ہو سکتی ہیں۔ اے آئی پر توجہ مرکوز کرنے کے نتیجے میں فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کے آپریشنز اور کام کرنے کے طریقوں میں بھی اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔ کمپنی کا مقصد ہے کہ وہ اے آئی کو اپنے صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے اور نئے فیچرز متعارف کرانے کے لیے استعمال کرے۔

