امریکی آٹو مینوفیکچرر فورڈ موٹر نے رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں توقعات سے کہیں کم آمدنی کی اطلاع دی ہے، جو کہ گزشتہ چار سالوں میں سب سے بڑی کمی ہے۔ کمپنی نے 2024 کے بعد پہلی بار سہ ماہی آمدنی کے تخمینے کو پورا کرنے میں ناکامی کا سامنا کیا ہے۔
مالیاتی نتائج اور وجوہات
فورڈ نے حال ہی میں اپنے مالیاتی نتائج کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق کمپنی کی آمدنی تجزیہ کاروں کی پیش گوئیوں سے نمایاں طور پر کم رہی۔ اس کمی کی وجوہات میں بڑھتی ہوئی لاگت، سپلائی چین کے مسائل اور الیکٹرک وہیکل (EV) سیکٹر میں سرمایہ کاری کے دوران مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔ کمپنی نے خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری اور مارکیٹنگ پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے، جس کے ابتدائی اخراجات زیادہ ہیں اور منافع میں کمی کا باعث بن رہے ہیں۔
2026 کے لیے بہتر پیش گوئی
ان چیلنجوں کے باوجود، فورڈ نے 2026 کے لیے اپنی مالیاتی پیش گوئی میں بہتری کی امید ظاہر کی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اخراجات کو کنٹرول کرنے اور الیکٹرک وہیکل کے شعبے میں اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ مینجمنٹ کا خیال ہے کہ اگلے دو سالوں میں حالات بہتر ہوں گے اور کمپنی منافع بخش نمو کی طرف لوٹ آئے گی۔
مارکیٹ کا ردعمل
اس خبر کے بعد فورڈ کے شیئرز میں ابتدائی طور پر گراوٹ دیکھی گئی، تاہم کمپنی کی جانب سے مستقبل کے لیے مثبت اشارے دینے کے بعد مارکیٹ میں کچھ استحکام دیکھا گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فورڈ کو الیکٹرک وہیکل کے شعبے میں سخت مقابلے کا سامنا ہے اور اسے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

