بی بی سی نیوز نائٹ کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں، فرانس کے سب سے بڑے عصمت دری کے مقدمے کی مرکزی کردار گیزل پیلیکوٹ نے اپنے تجربات اور جذبات کے بارے میں کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ "ہولناکی نے مجھے کچل دیا تھا، لیکن مجھے غصہ محسوس نہیں ہوتا۔”
اس انٹرویو میں، گیزل پیلیکوٹ نے اپنے ساتھ ہونے والی دھوکہ دہی، اس کے بعد زخموں کی شفا یابی کے عمل اور زندگی میں درست راہ کے انتخاب جیسے اہم موضوعات پر روشنی ڈالی۔ ان کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس ہولناک تجربے سے گزرنے کے باوجود، انہوں نے اپنے اندر غصے کو جگہ دینے کے بجائے، زخموں کو بھرنے اور زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے ایک مختلف راستہ چنا ہے۔
انٹرویو کے اہم نکات
فرانس کے اس سب سے بڑے عصمت دری کے مقدمے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا، اور گیزل پیلیکوٹ اس مقدمے کی مرکزی شخصیت ہیں۔ ان کا انٹرویو ان کی ذاتی ہمت اور مضبوط ارادے کی گواہی دیتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح اس ہولناک واقعے نے ان کی زندگی کو متاثر کیا، مگر اس کے باوجود انہوں نے اپنے اندر غصے اور تلخی کو پروان چڑھانے کے بجائے، ذہنی سکون اور مثبت سوچ کو ترجیح دی۔
گیزَل پیلیکوٹ کی کہانی نہ صرف متاثرین کے لیے ایک امید کی کرن ہے بلکہ یہ بھی سکھاتی ہے کہ کس طرح شدید ترین صدمے کے بعد بھی انسان غصے اور تلخی سے بالا تر ہو کر شفا یابی اور مثبت راستے کا انتخاب کر سکتا ہے۔

