مصر کی آبادی کا ایک تہائی حصہ، جو تقریباً 37 ملین افراد پر مشتمل ہے، 2011 کے عرب بہار کے احتجاجات کے بعد پیدا ہوا ہے جس نے ملک کے دیرینہ صدر حسنی مبارک کی حکومت کا خاتمہ کیا تھا۔ یہ ایک بہت بڑا نسلی فرق ہے جس کا مطلب ہے کہ مصر کی ایک بڑی آبادی اس تاریخی دور کی کوئی یادداشت نہیں رکھتی جس نے ملک کی سیاسی اور سماجی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
تاریخی یادداشت کا فقدان اور نسلی تبدیلی
یہ صورتحال خاص طور پر مصر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی میں نمایاں ہے، جو نہ صرف 2011 کے واقعات سے ناواقف ہے بلکہ نوآبادیاتی دور کے بعد جمال عبدالناصر کے دور کی شان و شوکت اور سیاسی نظریات سے بھی کوئی تعلق نہیں رکھتی۔ ان نوجوانوں کے لیے، 2011 کا انقلاب محض ایک تاریخی واقعہ بن چکا ہے جسے انہوں نے ذاتی طور پر نہیں دیکھا۔
ماہرین عمرانیات اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نسلی تبدیلی کے ملک کی سیاسی حرکیات پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایک ایسی نسل جو ماضی کے سیاسی تجربات سے لاتعلق ہو، اس کے لیے موجودہ سیاسی نظام کو سمجھنا یا اس پر ردعمل ظاہر کرنا مختلف نوعیت کا ہو سکتا ہے۔
عبوری دور کا بحران
سیاسی مبصرین کے مطابق، مصر اس وقت ایک ایسے عبوری دور (Interregnum) سے گزر رہا ہے جہاں پرانا نظام دم توڑ رہا ہے لیکن نیا نظام ابھی جنم نہیں لے سکا ہے۔ یہ بحران عین اسی حقیقت پر مشتمل ہے کہ ماضی کی یادیں دھندلا رہی ہیں اور مستقبل کی واضح تصویر موجود نہیں ہے۔
اس نسلی اور سیاسی خلا کے دوران، مختلف النوع کے پریشان کن اور غیر معمولی مظاہر سامنے آ رہے ہیں۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد کا تاریخی واقعات سے بے خبری ملک کے سیاسی شعور اور اجتماعی یادداشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جس سے مصر میں سیاسی استحکام اور مستقبل کی سمت کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔

