منگل, جنوری 27, 2026
الرئيسيةعالمی اقتصادی فورم ڈیوس: اتحادی ممالک میں کشیدگی کے سائے، ٹھنڈے دماغوں...

عالمی اقتصادی فورم ڈیوس: اتحادی ممالک میں کشیدگی کے سائے، ٹھنڈے دماغوں کے غالب آنے کی امید

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف) کے سالانہ اجلاس کے انعقاد سے قبل، عالمی سطح پر ایک گہری کشیدگی اور بے چینی محسوس کی جا رہی ہے۔ خاص طور پر ان ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ نمایاں ہے جو ایک دوسرے کو اتحادی قرار دیتے ہیں۔

اتحادیوں کے درمیان تناؤ

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس ایک ایسے نازک موڑ پر منعقد ہو رہا ہے جہاں تجارتی پالیسیوں، جغرافیائی سیاسی اختلافات اور باہمی اعتماد کی کمی نے اتحادیوں کے تعلقات کو بھی متاثر کیا ہے۔ عالمی مبصرین کی نظریں ڈیوس پر جمی ہیں، جہاں یہ امید کی جا رہی ہے کہ عالمی رہنما ذاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مشترکہ عالمی چیلنجز پر توجہ مرکوز کریں گے اور ‘ٹھنڈے دماغ’ غالب آئیں گے۔

یہ کشیدگی اس قدر واضح ہے کہ عالمی برادری میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ اگر ڈیوس میں ہونے والے مذاکرات میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہ ہوئی تو عالمی اقتصادی اور سیاسی استحکام مزید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ آئندہ عالمی ہفتہ اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا موجودہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا عالمی رہنما مشترکہ مفادات کی خاطر اختلافات کو کم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

امریکی صدر کی شرکت پر مؤقف

اس کشیدہ ماحول میں، عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف) کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سالانہ اجلاس میں شرکت سے روکنے کے لیے کیے جانے والے مطالبات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، فورم نے ان مطالبات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

ڈبلیو ای ایف کے منتظمین کا مؤقف ہے کہ عالمی سطح پر مؤثر مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ تمام بڑی اقتصادی اور سیاسی طاقتوں کی نمائندگی موجود ہو، چاہے ان کے پالیسی اختلافات کتنے ہی شدید کیوں نہ ہوں۔ فورم کا اصرار ہے کہ عالمی مسائل کا حل صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب تمام متعلقہ فریقین ایک میز پر بیٹھ کر بات چیت کریں۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں