امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی شراب اور شیمپین پر 200 فیصد تک بھاری محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ یہ دھمکی فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی جانب سے ٹرمپ کے مجوزہ ‘امن بورڈ’ میں شمولیت سے مبینہ طور پر انکار کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سفارتی تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔
تنازع کی اصل وجہ
صدر ٹرمپ نے منگل کے روز یہ دھمکی اس وقت دی جب فرانسیسی صدر میکرون نے بظاہر ان کی ایک غیر رسمی پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے مبینہ طور پر صدر میکرون کو ایک نجی نوعیت کے ‘امن بورڈ’ میں شمولیت کی پیشکش کی تھی، جس کے لیے ایک ارب ڈالر کی خطیر رقم بطور فیس ادا کرنا لازمی تھا۔
فرانسیسی رہنما کی جانب سے اس پیشکش کو ٹھکرانے پر صدر ٹرمپ نے شدید ناراضی کا اظہار کیا اور فرانسیسی مصنوعات پر بھاری ٹیرف لگانے کی دھمکی دی۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ فرانسیسی شراب اور شیمپین پر 200 فیصد تک ٹیرف عائد کر سکتے ہیں، جس سے فرانس کی اہم برآمدی صنعت کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
گرین لینڈ اور یورپی رہنماؤں کا ردعمل
اس تناؤ کے دوران، صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کو اپنے کنٹرول میں لینے کے اپنے پرانے منصوبوں کا بھی اعادہ کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یورپی رہنما اس معاملے پر زیادہ مزاحمت نہیں کریں گے اور انہیں یقین ہے کہ یورپ کی جانب سے اس اقدام پر کوئی بڑا ردعمل سامنے نہیں آئے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ بین الاقوامی سطح پر اپنے فیصلوں پر کسی بھی قسم کی مزاحمت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ فرانسیسی مصنوعات پر محصولات کی دھمکی کو میکرون کے انکار پر ذاتی انتقام کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، جس سے عالمی تجارتی تعلقات میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

