ہفتہ, مارچ 14, 2026
الرئيسيةشام: علوی اقلیت کی خواتین کے اغوا اور جنسی تشدد کے لرزہ...

شام: علوی اقلیت کی خواتین کے اغوا اور جنسی تشدد کے لرزہ خیز انکشافات

شام میں جاری طویل خانہ جنگی کے دوران علوی اقلیتی فرقے سے تعلق رکھنے والی خواتین نے اپنے ساتھ پیش آنے والے اغوا اور جنسی تشدد کے ایسے ہولناک واقعات بیان کیے ہیں جنہوں نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، ان خواتین کو مبینہ طور پر ان کے فرقے کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا، جو کہ شام کے صدر بشار الاسد کا بھی فرقہ ہے۔

خوف اور صدمے کی لرزہ خیز داستانیں

متاثرہ خواتین میں سے ایک نے اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے بتایا کہ قید کے دوران ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کے اثرات آج بھی ان کے ذہن پر نقش ہیں۔ انہوں نے کہا، "میں برسوں بعد بھی نیند میں خوف سے چیخ اٹھتی ہوں۔” ان خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں مسلح گروہوں نے محض اس لیے اغوا کیا تاکہ وہ حکومت پر دباؤ ڈال سکیں یا فرقہ وارانہ انتقام لے سکیں۔ ان کے مطابق، قید خانوں میں انہیں نہ صرف جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ ان کی تذلیل بھی کی گئی۔

فرقہ وارانہ بنیادوں پر منظم حملے

رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شام میں سرگرم مختلف باغی اور مسلح گروہوں نے علوی برادری کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کے خلاف جنسی تشدد کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا تاکہ مخالف برادری کی تذلیل کی جا سکے اور ان میں خوف و ہراس پھیلایا جائے۔ ان واقعات کے شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ یہ حملے انفرادی نوعیت کے نہیں تھے بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتے تھے۔

انصاف کی پکار اور عالمی برادری کی ذمہ داری

انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے ان انکشافات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے جنگی جرائم کے زمرے میں قرار دیا ہے۔ متاثرہ خواتین کا مطالبہ ہے کہ عالمی برادری ان مظالم کا نوٹس لے اور ذمہ داروں کو بین الاقوامی عدالتوں کے کٹہرے میں لایا جائے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، شام میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام فرقوں سے تعلق رکھنے والے متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے اور جنگ کے دوران ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا محاسبہ کیا جائے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں