شامی فوج نے شام کے شمال مشرقی علاقوں میں کرد ملیشیا، سیرین ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد نمایاں علاقائی پیش قدمی کی ہے۔ یہ پیش رفت حلب سے شروع ہوئی اور اب ملک کے شمال مشرقی حصوں تک پھیل گئی ہے۔ شامی فوج کے مطابق، انہوں نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، جس کے بعد یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ آیا شامی فوج بالآخر کردوں کے زیرِ قبضہ علاقوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر لے گی۔
حکومتی کنٹرول کا اعلان
شامی صدارت کی جانب سے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، حکومت نے رقہ اور دیر الزور کے علاقوں کا فوری کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ یہ پیش رفت ان علاقوں میں جاری لڑائی کے تناظر میں سامنے آئی ہے جہاں SDF کا اثر و رسوخ تھا۔ شامی فوج کی جانب سے ان علاقوں میں داخل ہونے اور حکومتی پرچم لہرانے کی اطلاعات ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شامی فوج کی یہ پیش قدمی ملک کے مستقبل کے سیاسی نقشے اور علاقائی طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ کردوں کے زیرِ انتظام علاقوں میں حکومتی کنٹرول کا قیام ان کی خود مختاری کی خواہشات کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔
اس صورتحال پر بین الاقوامی برادری کی نظریں لگی ہوئی ہیں، کیونکہ اس کے خطے میں استحکام اور سلامتی پر دور رس نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔

