سینیگلن نے مراکش کے خلاف 0‑0 سے جاری مقابلے کے بعد ایڈیشن 2025 افریقی کپ آف نیشنز (AFCON) کا دوسرا ٹائٹل اپنے نام کیا۔ لیکن فائنل میں ایک متنازعہ سٹاپ ایج پینلٹی اور ٹیموں کے عارضی کھیل سے انکار نے جیت کے جشن کو دھندلا کر دیا۔
فائنل کا خلاصہ
دوسرا نصف وقت برابر اسکور پر ختم ہوا۔ دونوں ٹیموں کے دفاعی کھلاڑیوں نے موقع پر قابو پایا اور گول کی کوئی واضح موقع نہیں بن سکا۔ میچ کے آخری منٹوں میں ریفری نے مراکش کو ایک سٹاپ ایج پینلٹی دی، جس پر سینیگلن کے کھلاڑی اور کوچنگ اسٹاف نے شدید اعتراض کیا۔
متنازعہ سٹاپ ایج پینلٹی
پینلٹی کے فیصلے کے بعد سینیگلن کے کھلاڑی میدان سے نکل کر کھیل سے انکار کر بیٹھے۔ اس اقدام نے میچ کو تقریباً دس منٹ کے لیے روک دیا۔ ریفری کی جانب سے پینلٹی کے بعد بھی کھیل جاری رکھنے کی متعدد بار درخواستیں کی گئیں، مگر سینیگلن کے کھلاڑیوں نے اپنی پوزیشن برقرار رکھی۔
سینیگلن کی احتجاج اور کھیل کا دوبارہ آغاز
کچھ دیر کے بعد سینیگلن کے کپتان اور مینیجر نے ریفری کے ساتھ مذاکرات کے بعد کھیل دوبارہ شروع کرنے پر راضی ہو گئے۔ پینلٹی کے بعد مراکش کے کھلاڑی نے گیند کو جال میں لگایا، لیکن سینیگلن کے گول کیپر نے اسے روک لیا۔ اس کے بعد سینیگلن نے 120ویں منٹ میں ایک زبردست اٹیک کے دوران گول کیا اور میچ 1‑0 سے ختم ہوا۔
ماہرین اور شائقین کے ردعمل
کئی ماہرین نے اس واقعے کو "شرمناک” اور "خوفناک منظر” قرار دیا۔ سابق بین الاقوامی کھلاڑی اور تجزیہ کار نے کہا کہ "کھیل کے اصولوں کی خلاف ورزی اور کھلاڑیوں کا میدان چھوڑنا کسی بھی بڑے ٹورنامنٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے”۔ شائقین کی جانب سے بھی سینیگلن کی جیت پر خوشی کے ساتھ ساتھ فائنل کے دوران پیش آنے والے انتشار پر شدید مایوسی کا اظہار ہوا۔
آئندہ کے لیے اسباق
AFCON کی تنظیمی کمیٹی نے اس واقعے کے بعد ریفری کے فیصلوں کی شفافیت اور میچ کے دوران اضطراری صورتحال کے لیے واضح پروٹوکولز بنانے کا وعدہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ، فیفا اور CAF نے کھلاڑیوں اور حکام کے لیے تربیتی ورکشاپوں کا اہتمام کرنے کا اعلان بھی کیا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

