امریکی سپریم کورٹ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ محصولات (ٹیرف) کو کالعدم قرار دے دیا ہے، جس سے ان کی اہم اقتصادی پالیسی کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کو سابق صدر کی اقتصادی حکمت عملی پر ایک سخت تنقید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو ان کی ‘امریکہ فرسٹ’ پالیسی کا ایک کلیدی جزو تھی۔
فیصلے کی تفصیلات اور پس منظر
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی اس دستخطی اقتصادی پالیسی کو ختم کرتا ہے جس کے تحت مختلف ممالک سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر بھاری محصولات عائد کیے گئے تھے۔ ان محصولات کا مقصد امریکی صنعتوں کو تحفظ فراہم کرنا اور تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود اس سے قبل جمعرات کو ہی ان محصولات کو کالعدم قرار دیے جانے کے ممکنہ نتائج کے بارے میں بات کی تھی، اور اس کے ‘زلزلے’ جیسے اثرات کی پیش گوئی کی تھی۔
عدالتی فیصلے کے بعد، عالمی تجارتی حلقوں میں اس کے دور رس اثرات پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف امریکہ کی اندرونی معیشت بلکہ عالمی تجارتی تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ یہ ٹرمپ کی اقتصادی وژن کو ایک واضح عدالتی ردعمل ہے اور مستقبل میں امریکی تجارتی پالیسیوں کے لیے نئی راہیں ہموار کر سکتا ہے۔

