سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کو چین کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کرنے پر سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیجنگ کے ساتھ کاروبار کرنا لندن کے لیے "انتہائی خطرناک” ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ کی لیبر پارٹی کے رہنما سر کیر سٹارمر اپنے دورہ چین کے تیسرے روز شنگھائی پہنچے ہیں۔ سٹارمر کا یہ دورہ چین کے ساتھ اقتصادی اور سیاسی تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
ٹرمپ کا سخت انتباہ
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ برطانیہ کے لیے بیجنگ کے ساتھ تجارتی معاملات میں ملوث ہونا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ برطانیہ کو چین کے ساتھ کاروباری تعلقات استوار کرنے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ یہ اقدام ملک کی سلامتی اور اقتصادی مفادات کے لیے شدید خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں صرف برطانیہ کو ہی ہدف نہیں بنایا بلکہ راتوں رات جاری کیے گئے ایک بیان میں انہوں نے کینیڈا پر بھی سخت تنقید کی اور اسے بھی چین کے ساتھ کاروبار کرنے کے حوالے سے خبردار کیا۔
سیاسی پس منظر
سر کیر سٹارمر، جو اس وقت برطانیہ میں حزب اختلاف کے رہنما ہیں، چین کے ساتھ تعلقات کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کے خواہاں ہیں۔ ان کی شنگھائی آمد کا مقصد چینی حکام اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کرنا ہے تاکہ باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔
عالمی سیاست میں ٹرمپ کے اس بیان کو برطانیہ اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات پر امریکہ کی جانب سے ایک واضح دباؤ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ طویل عرصے سے اپنے اتحادیوں کو چین کے ساتھ حساس ٹیکنالوجی اور تجارتی شعبوں میں گہرے تعلقات قائم کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

