برطانوی لیبر پارٹی کے سربراہ سِر کیئر سٹارمر نے اینڈریو ماؤنٹبیٹن‑ونڈسر، جناب ڈیوک آف سسیکس، پر زور دیا کہ وہ امریکی کانگریس کے سامنے اپنے جفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات اور اس کے ساتھ کی گئی ملاقاتوں کے بارے میں واضح گواہی دیں۔ یہ بیان نئی شائع شدہ تصاویر کے بعد سامنے آیا جن میں ماؤنٹبیٹن‑ونڈسر کو ایپسٹین کے نجی جائیداد پر موجود دکھایا گیا ہے۔
پس منظر
جفری ایپسٹین، جو ایک بین الاقوامی سطح پر مشہور جنسی تشدد کا مجرم تھا، 2019 میں خودکشی کے الزام میں اپنی قید خانے میں مردہ پایا گیا۔ اس کے ساتھ متعدد اعلیٰ سطح کے افراد کے تعلقات کی تحقیقات جاری ہیں۔ اینڈریو ماؤنٹبیٹن‑ونڈسر کے ایپسٹین کے ساتھ ملاقاتوں کے بارے میں پہلے بھی میڈیا میں سوالات اٹھائے گئے تھے، مگر اس نے اس وقت کوئی واضح وضاحت نہیں دی تھی۔
نئی تصاویر کا اثر
حالیہ ہفتے میں سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی تصاویر میں ماؤنٹبیٹن‑ونڈسر کو ایپسٹین کے نجی جائیداد پر موجود دیکھا گیا ہے۔ تصویر میں واضح طور پر اس کے ساتھ ایپسٹین کے معاونین اور دیگر مہمان بھی موجود ہیں۔ یہ تصاویر اس بات کی نئی سراغ فراہم کرتی ہیں کہ ماؤنٹبیٹن‑ونڈسر ایپسٹین کے سرکل میں کس حد تک شامل تھا۔
قانونی اور سیاسی ردعمل
سِر کیئر سٹارمر نے اس موقع پر واضح کیا کہ اگر ماؤنٹبیٹن‑ونڈسر واقعی ایپسٹین کے ساتھ کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث تھا تو اسے امریکی کانگریس کے سامنے اپنی کارروائیوں کی مکمل وضاحت دینی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کی گواہی نہ صرف شفافیت کو بڑھائے گی بلکہ متاثرین کے لیے انصاف کے حصول کا ایک اہم قدم بھی ثابت ہوگی۔
متاثرین کی آواز
جفری ایپسٹین کے متعدد بچاؤ کے متاثرین نے اس معاملے پر اپنی بےچینی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ماؤنٹبیٹن‑ونڈسر جیسے افراد اس معاملے میں شامل ہیں تو ان کی گواہی سے سچائی سامنے آ سکتی ہے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکتی ہے۔
آئندہ ممکنہ پیش رفت
اگر اینڈریو ماؤنٹبیٹن‑ونڈسر اس مشورے پر عمل کرتے ہوئے امریکی کانگریس میں گواہی دیتے ہیں تو اس سے برطانیہ اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، برطانوی شاہی خاندان کے اندرونی ردعمل اور عوامی رائے بھی اس معاملے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔

