یوکرین کے صدر ولودیمیر زيلنسکی نے بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے تیسری عالمی جنگ کا آغاز کر دیا ہے اور انہیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔ یہ انٹرویو جنگ کے چار سال مکمل ہونے سے چند روز قبل کیف میں بی بی سی کے چیف بین الاقوامی نمائندے جیرمی بوون کو دیا گیا۔
جنگ کے اثرات اور عالمی ردعمل
صدر زيلنسکی نے جنگ کے انسانی اور معاشی اثرات پر روشنی ڈالی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ یوکرین کی حمایت میں مزید اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ پوٹن کا جارحانہ رویہ صرف یوکرین تک محدود نہیں بلکہ یہ عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ ان کے مطابق، اگر پوٹن کو اب نہ روکا گیا تو اس کے نتائج بہت خوفناک ہو سکتے ہیں۔
عالمی جنگ کا خدشہ
صدر زيلنسکی نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر روس کے عزائم کو لگام نہ ڈالی گئی تو یہ تنازعہ مزید پھیل سکتا ہے اور عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے مغربی ممالک سے اپیل کی کہ وہ یوکرین کو مزید فوجی اور مالی امداد فراہم کریں تاکہ وہ اپنی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کر سکے۔
مستقبل کی حکمت عملی
انٹرویو کے دوران، صدر زيلنسکی نے یوکرین کی مستقبل کی حکمت عملی پر بھی بات کی اور کہا کہ ان کا ملک ہر صورت میں اپنی آزادی کے لیے لڑتا رہے گا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ عالمی برادری کے تعاون سے یوکرین اس جنگ میں فتح حاصل کرے گا اور خطے میں امن بحال ہوگا۔

