منگل, جنوری 27, 2026
الرئيسيةریزرو فوجیوں کو جنگی خدمات کے لیے طلب کرنے کے نئے قواعد،...

ریزرو فوجیوں کو جنگی خدمات کے لیے طلب کرنے کے نئے قواعد، عمر کی حد میں دس سال کا اضافہ

عالمی سطح پر دفاعی حکمت عملیوں میں تبدیلی کے پیش نظر، ریزرو فوجیوں کو جنگی خدمات کے لیے طلب کرنے کے قوانین میں اہم ترامیم کی گئی ہیں۔ ان نئے قواعد کا مقصد ریزرو فورسز کو زیادہ آسانی اور تیزی سے متحرک کرنا ہے، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوجیوں کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اہم تبدیلیاں اور تفصیلات

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی رپورٹ کے مطابق، نئے قوانین کے تحت ریزرو فوجیوں کی خدمات کی عمر کی حد میں دس سال کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس توسیع کے بعد، ریزرو فوجی اب ایک اضافی دہائی تک کسی بھی وقت ہنگامی صورتحال میں طلب کیے جانے کے لیے تیار رہیں گے۔

ان تبدیلیوں میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ریزرو فوجیوں کو فعال ڈیوٹی پر بلانے کے لیے درکار کم از کم حد (threshold) کو نمایاں طور پر کم کر دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومتوں کو جنگ یا بڑے بحران کی صورت میں ریزرو فورسز کو فوری طور پر متحرک کرنے کی زیادہ لچک فراہم ہو جائے گی، اور انہیں طلب کرنے کے لیے پہلے سے کم سخت شرائط پوری کرنا ہوں گی۔

عالمی تناظر

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سخت اقدامات روس کے یوکرین پر حملے اور عالمی سلامتی کے ماحول میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے ردعمل میں کیے گئے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور ہنگامی حالات میں تربیت یافتہ فوجیوں کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اسی طرح کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں