روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کو روکنے کے لیے ہونے والے امن مذاکرات کا دوسرا مرحلہ کسی بھی بڑے بریک تھرو یا حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا ہے۔ فریقین کے درمیان ہونے والی یہ نشست محض دو گھنٹے جاری رہنے کے بعد اختتام پذیر ہوئی، جس سے فوری جنگ بندی کی امیدوں کو ایک بار پھر دھچکا لگا ہے۔
مذاکرات کی تفصیلات اور دورانیہ
سفارتی ذرائع کے مطابق، روس اور یوکرین کے وفود کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور انتہائی کشیدہ اور کٹھن ماحول میں ہوا۔ توقعات کے برعکس، دوسرے روز کی یہ اہم بیٹھک صرف دو گھنٹے تک محدود رہی۔ یوکرینی حکام نے مذاکرات کے اس عمل کو ‘انتہائی مشکل’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فریقین کے مابین کئی بنیادی نکات پر اختلافات تاحال برقرار ہیں، جس کی وجہ سے کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا جا سکا۔
فریقین کا موقف اور رکاوٹیں
مذاکرات کے دوران یوکرین نے فوری جنگ بندی اور روسی افواج کے انخلا کا مطالبہ دہرایا، جبکہ روسی وفد نے اپنے مخصوص سیکیورٹی مطالبات پر زور دیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے موقف میں موجود خلیج اتنی وسیع ہے کہ محض چند گھنٹوں کی گفتگو سے کسی بڑے معاہدے تک پہنچنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ اس نشست کے بعد دونوں وفود مزید مشاورت کے لیے اپنے اپنے دارالحکومتوں کو روانہ ہو گئے ہیں۔
عالمی برادری کی تشویش
عالمی سطح پر ان مذاکرات کو جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا جا رہا تھا، تاہم کسی نتیجے تک نہ پہنچنے پر عالمی برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرینِ خارجہ امور کا ماننا ہے کہ جب تک دونوں ممالک اپنے سخت موقف میں لچک پیدا نہیں کرتے، تب تک سفارتی کوششوں کے ذریعے پائیدار امن کا قیام ایک مشکل ہدف رہے گا۔ فی الحال سب کی نظریں مذاکرات کے اگلے ممکنہ دور پر لگی ہوئی ہیں، تاہم اس کی تاریخ کا تاحال اعلان نہیں کیا گیا۔

