ہالی ووڈ کی کلاسیک فلم ‘دی میگنیفیسنٹ ایمبرسنز’ کے حوالے سے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر مبنی ایک متنازعہ منصوبے نے فلمی حلقوں میں شدید بحث چھیڑ دی تھی۔ اگرچہ اس منصوبے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ناقدین کی شدید ناراضگی میں قدرے کمی واقع ہوئی ہے، لیکن ماہرین کا متفقہ خیال ہے کہ تخلیقی کاموں میں اے آئی کا یہ استعمال اب بھی ایک غیر مناسب اور برا خیال ہے۔
تنازعہ کی نوعیت اور ناراضگی میں تخفیف
یہ منصوبہ دراصل اورسن ویلز کی اس شاہکار فلم کے کھوئے ہوئے یا نامکمل حصوں کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے ‘مکمل’ کرنے کی کوشش سے متعلق ہے۔ اورسن ویلز کی یہ فلم اپنی اصل شکل میں کبھی ریلیز نہیں ہو سکی تھی اور اس کے بہت سے مناظر سٹوڈیو نے کاٹ دیے تھے۔ ابتدائی طور پر، فنکارانہ دیانت داری (Artistic Integrity) کے حامیوں نے اسے ویلز کے وژن کی توہین قرار دیا تھا۔
تاہم، جب اس منصوبے کے دائرہ کار اور طریقہ کار کی وضاحت کی گئی تو یہ واضح ہوا کہ یہ مکمل طور پر نئی تخلیق نہیں بلکہ شاید موجودہ مواد کی بحالی یا تجزیے پر زیادہ مرکوز ہے۔ اسی وضاحت کے نتیجے میں شدید غصے میں کچھ تخفیف دیکھنے میں آئی، کیونکہ خدشہ تھا کہ اے آئی مکمل طور پر ایک نئی فلم تخلیق کر دے گا۔
ماہرین کے مستقل تحفظات اور حتمی رائے
اس کے باوجود، فلم انڈسٹری کے ماہرین اور مدیران کا یہ موقف برقرار ہے کہ تخلیقی عمل میں مصنوعی ذہانت کا اس طرح کا دخل بنیادی طور پر ایک برا خیال ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی فنکار کے نامکمل یا تباہ شدہ کام کو ٹیکنالوجی کے ذریعے ‘ٹھیک’ کرنے کی کوشش فنکارانہ سالمیت کو خطرے میں ڈالتی ہے اور مستقبل میں ایسے منصوبوں کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کرتی ہے۔
ناقدین زور دیتے ہیں کہ کلاسیک کاموں کو ان کی اصل حالت میں ہی رہنے دینا چاہیے، چاہے وہ نامکمل ہی کیوں نہ ہوں۔ ان کے مطابق، کسی بھی فنکار کے نامکمل وژن کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے ‘بہتر’ بنانے کی کوشش دراصل اس فنکار کی میراث کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ لہٰذا، اگرچہ ابتدائی شدید ردعمل میں کمی آئی ہے، لیکن اس منصوبے کی اخلاقی اور فنکارانہ بنیادوں پر اعتراضات بدستور قائم ہیں۔

