جمعرات, مارچ 5, 2026
الرئيسيةUncategorizedخودکار گاڑیوں کی راہ میں کھلی کھڑکیاں رکاوٹ، ویمو نے ڈور ڈیش...

خودکار گاڑیوں کی راہ میں کھلی کھڑکیاں رکاوٹ، ویمو نے ڈور ڈیش ڈرائیورز سے مدد مانگ لی

خودکار گاڑیاں بنانے والی معروف کمپنی ‘ویمو’ (Waymo) نے اپنی گاڑیوں کے آپریشنز میں حائل ایک غیر معمولی رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے فوڈ ڈیلیوری سروس ‘ڈور ڈیش’ (DoorDash) کے ڈرائیورز سے مدد طلب کر لی ہے۔ کمپنی کے مطابق، اگر کوئی مسافر گاڑی سے اترتے وقت غلطی سے دروازہ کھلا چھوڑ دے تو یہ خودکار گاڑیاں اپنی جگہ پر جام ہو جاتی ہیں اور حفاظتی پروٹوکولز کے باعث آگے بڑھنے سے قاصر رہتی ہیں۔

تکنیکی مسئلہ اور آپریشنل مشکلات

ویمو کی خودکار ٹیکسیوں میں نصب جدید سینسرز اور حفاظتی نظام اس وقت تک گاڑی کو حرکت دینے کی اجازت نہیں دیتے جب تک تمام دروازے مکمل طور پر بند نہ ہوں۔ اکثر اوقات مسافر جلد بازی یا لاپرواہی میں دروازہ کھلا چھوڑ دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں گاڑی سڑک کے بیچوں بیچ یا کسی مصروف مقام پر کھڑی رہ جاتی ہے۔ چونکہ ان گاڑیوں میں کوئی انسانی ڈرائیور موجود نہیں ہوتا، اس لیے ایک کھلا ہوا دروازہ پورے سسٹم کو معطل کر دیتا ہے، جس سے نہ صرف کمپنی کو مالی نقصان ہوتا ہے بلکہ ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوتی ہے۔

ڈور ڈیش کے ساتھ اشتراک کی ضرورت

اس مسئلے کے فوری حل کے لیے ویمو نے اب ‘ڈور ڈیش’ کے ڈیلیوری پارٹنرز سے رجوع کیا ہے۔ کمپنی نے ان ڈرائیورز سے درخواست کی ہے کہ اگر وہ سڑک پر کسی ایسی ویمو گاڑی کو دیکھیں جس کا دروازہ کھلا ہو اور وہ ساکت کھڑی ہو، تو وہ اخلاقی طور پر اسے بند کرنے میں مدد کریں۔ اس اقدام کا مقصد انسانی مداخلت کے ذریعے گاڑی کو دوبارہ فعال بنانا ہے تاکہ وہ اپنا سفر جاری رکھ سکے۔ ویمو کا ماننا ہے کہ ڈور ڈیش کے ڈرائیورز چونکہ ہر وقت سڑکوں پر موجود ہوتے ہیں، اس لیے وہ اس سلسلے میں سب سے زیادہ معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

خودکار ٹیکنالوجی کی حدود

ماہرینِ ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال خودکار گاڑیوں کی ٹیکنالوجی میں موجود ان چھوٹی مگر پیچیدہ خامیوں کی نشاندہی کرتی ہے جنہیں مکمل طور پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے حل کرنا فی الحال ممکن نہیں ہے۔ ویمو کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ مکمل طور پر خودکار مستقبل کی جانب پیش قدمی کے باوجود، غیر متوقع انسانی غلطیوں کو درست کرنے کے لیے اب بھی انسانی مدد کی ضرورت باقی ہے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں