منگل, جنوری 27, 2026
الرئيسيةحمل میں پیراسیٹامول کا استعمال محفوظ، آٹزم اور اے ڈی ایچ ڈی...

حمل میں پیراسیٹامول کا استعمال محفوظ، آٹزم اور اے ڈی ایچ ڈی کے خدشات کو ‘گولڈ اسٹینڈرڈ’ تحقیق نے رد کر دیا

ماہرین نے اعلان کیا ہے کہ حاملہ خواتین کے لیے پیراسیٹامول (Paracetamol) کا استعمال مکمل طور پر محفوظ ہے۔ ایک نئے ‘گولڈ اسٹینڈرڈ’ سائنسی جائزے نے اس عام درد کُش دوا کے استعمال پر جاری تمام بحث کو ختم کر دیا ہے، جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ حمل کے دوران دوا لینے سے بچے میں آٹزم یا دیگر اعصابی مسائل کا خطرہ نہیں بڑھتا۔

اہم سائنسی جائزہ اور دعووں کی تردید

محققین کا کہنا ہے کہ ان کا جامع اور اعلیٰ معیار کا جائزہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ حاملہ خواتین کو اب اس دوا کے استعمال کے بارے میں کسی قسم کی تشویش نہیں ہونی چاہیے۔ یہ تحقیق ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے پیراسیٹامول اور بچوں میں آٹزم کے درمیان تعلق جوڑنے کے دعوے کیے گئے تھے، جنہیں اب سائنسی طور پر مسترد کر دیا گیا ہے۔

معروف طبی جریدے ‘دی لانسیٹ’ (The Lancet) میں شائع ہونے والے اس جائزے میں مجموعی طور پر 43 مختلف مطالعات کا تجزیہ کیا گیا، جن میں لاکھوں شرکاء شامل تھے۔ یہ مطالعہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اور جامع جائزہ سمجھا جاتا ہے۔

نتائج کی تفصیلات

تحقیق کے نتائج نے دو ٹوک انداز میں یہ ثابت کیا کہ حمل کے دوران پیراسیٹامول کا استعمال نہ تو آٹزم (Autism) کے امکانات کو بڑھاتا ہے اور نہ ہی توجہ کی کمی اور ہائپر ایکٹیویٹی ڈس آرڈر (ADHD) یا کسی بھی قسم کی ذہنی معذوری (Intellectual Disability) کا سبب بنتا ہے۔

ماہرین نے زور دیا ہے کہ چونکہ یہ جائزہ سائنسی معیار کے لحاظ سے ‘گولڈ اسٹینڈرڈ’ کی حیثیت رکھتا ہے، لہٰذا اسے ڈاکٹروں اور حاملہ خواتین دونوں کو مکمل اطمینان فراہم کرنا چاہیے کہ وہ ضرورت پڑنے پر اس مؤثر اور عام دوا کا استعمال بلا جھجک کر سکتی ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے بعد پیراسیٹامول کے محفوظ استعمال کے حوالے سے جاری تمام قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہو جانا چاہیے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں