برطانیہ میں ایک جان بچانے والے اقدام، جسے ‘جیس کا اصول’ (Jess’s Rule) کا نام دیا گیا ہے، اب انگلینڈ کی تمام جنرل پریکٹیشنر (جی پی) سرجریز میں متعارف کرایا جا رہا ہے۔ یہ اقدام ان مریضوں کی بروقت تشخیص اور علاج کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے جنہیں ابتدائی طور پر غلط تشخیص کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جیس کی المناک کہانی اور اصول کی ضرورت
یہ اقدام جیسکا بریڈی نامی ایک نوجوان خاتون کی المناک موت کے بعد سامنے آیا ہے، جو ایڈوانسڈ اسٹیج فور کینسر میں مبتلا تھیں۔ بدقسمتی سے، انہیں ابتدائی طور پر جی پی ڈاکٹروں کی جانب سے لانگ کووِڈ کا شکار قرار دیا گیا تھا۔ جیسکا کی موت نے طبی نظام میں موجود خامیوں کو اجاگر کیا اور یہ احساس دلایا کہ مریضوں کی شکایات کو سنجیدگی سے لینا اور بروقت درست تشخیص کرنا کتنا اہم ہے۔
‘جیس کا اصول’ کیا ہے؟
‘جیس کا اصول’ دراصل ایک مریض کی حفاظت کا اقدام ہے جو ڈاکٹروں کو یاد دلاتا ہے کہ اگر وہ کسی مریض کی تین بار ملاقات کے باوجود درست تشخیص کرنے میں ناکام رہیں تو انہیں "دوبارہ سوچنا” چاہیے۔ اس اصول کے تحت، ڈاکٹروں کو درج ذیل اقدامات کی ترغیب دی جاتی ہے:
- کسی دوسرے ڈاکٹر سے دوسری رائے (second opinion) طلب کرنا۔
- مریض کے لیے مزید ضروری ٹیسٹ کروانا۔
- مریض کا براہ راست (face-to-face) معائنہ کرنا۔
یہ اصول اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ کسی بھی بیماری کو نظر انداز نہ کیا جائے اور مریضوں کو بروقت اور درست طبی امداد ملے۔
نفاذ اور اثرات
حکومت کی جانب سے اب ‘جیس کا اصول’ کے پوسٹرز تمام جی پی سرجریز میں آویزاں کیے جائیں گے تاکہ ڈاکٹروں اور عملے کو اس اہم پہل کے بارے میں مسلسل یاد دہانی کرائی جا سکے۔ اس اقدام سے امید کی جا رہی ہے کہ یہ غلط تشخیص کے واقعات کو کم کرنے اور مریضوں کی جانیں بچانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

